خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 223

۲۲۳ ایک مسلمان کے دل کا شیطان کے قبضہ میں ہوتا ہے۔جب ہمارا دل آزاد ہوگا ہماری قربانی دوسر کو موہ لے گی، کیونکہ گو ہماری گردن میں اس وقت کاٹی جارہی ہوں گی مگر ہماری زبانوں سے لاالہ الا الله محمد رسول اللہ کا کلمہ نکل رہا ہوگا۔لیکن اگر ہمارے دل شیطان کے قبضہ میں ہوں اور ہم ظاہری طور پر تو مسلمان کہلاتے ہوں لیکن اندرونی طور پر ہمارا دل کفر کے آگے جھکا جا رہا ہو تو یہ موت دوسرے کے دل میں جذبہ مودت کس طرح پیدا کر سکتی ہے یہ موت تو اسلام کے دشمن کے دل میں جذبۂ حقارت ہی پیدا کرے گی کیونکہ دشمن جانتا ہے کہ میرا مد مقابل میدان سے بھا گئے والا ہے۔وہ جانتا ہے کہ یہ قلیل ہو کر میدان سے پسپا ہونے والا ہے۔پس اس کے دل میں حضارت اور نفرت کے جذبات پیدا ہوں گے لیکن اگر کوئی دشمن کا مقابلہ کرتا اور اس کے مقابلہ میں مردانہ وا اپنی جان دے دیتا ہے۔تو اس کی نفرت کم ہو جاتی ہے۔اور وہ با وجود دشمن ہونے کے اس کی غربت کرنے لگ جاتا ہے۔غرض اسلام آج ایسی مصیبت میں مبتلا ہے جس مصیبت میں وہ آج سے پہلے بھی مبتلا نہیں ہوا۔آج اسلام پر دشمن چاروں طرف سے حملہ آور ہے۔مگر تلواروں سے نہیں بلکہ الی اور کفر اور بدعت کے ہتھیاروں سے۔آج مسلمان کی جان خطرے میں نہیں مگر اس کا ایمان خطرے میں ہے آج اس کے دل اور اسکے دماغ اور اس کے تمام اعضاء پر کفر مستولی ہو چکا ہے مگر مسلمان ہیں کہ مردوں کی طرح ہو رہے ہیں۔اور اسلام کے لئے ان کے دلوں میں کوئی درد پیدا نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسلام کی اس میکسی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں سے ہر طرف کفر است جو شاں ہمچو ا فواج یزید دین حق بیمار و بیکس ہمچو زین العابدیں لا مگر زین العابدین پر تو لوگوں کو رحم آتا تھا کیونکہ وہ ظاہری مصیبت میں مبتلا تھے۔اور ظاہری صیتیں انسان کے جذبات رحم کو اپیل کیا کرتی ہیں مگر اسلام پر تو رحم کھانے والا بھی کوئی نہیں پھر امام زین العابدین کو وہ مصیبت نہیں پہنچی جو اسلام کو پہنچ رہی ہے۔جس مصیبت میں آج احمدیت مبتلا ہے جب امام حسین کے لشکر کو شکست دے کر ان کا سر یزید کے سامنے پیش کیا گیا تو اس وقت یزید کتنے غرور اور گھمنڈ میں تھا۔اور کس طرح لوگ اس سے مرغوب ہو رہے تھے کہ وہ ایک ہی کانٹا جو اس کے دل میں کھٹک رہا تھا اس کو بھی اس نے نکال کر باہر پھینک دیا۔لوگ اس وقت یزید کی ہیت سے کس قدر خوفزدہ ہوں گے۔اور وہ خود اپنے دل میں کس قدر خوش ہوتا ہو گا کہ میں نے امام حسین کو قتل کر دیا اور آج کوئی نہیں جو میرا مقابلہ کر سکے۔چنانچہ جب اس کے دربار میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا سرکاٹ کر لایا گیا تو چونکہ مرنے والے کے پیچھے کھینچ جاتے ہیں اس لئے ان کے ہونٹ بھی پیچھے کو کھنچے ہوئے تھے۔یزید نے اس وقت اپنی سوٹی لی اور حضرت امام حسین کے دانتوں پر