خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 222

۲۲۲ خدا تعالیٰ کے بندے مکہ میں جمع ہو کر صفا اور مروہ پر دوڑتے ہیں ان کا دوڑنا کتنا مصنوعی ہوتا ہے۔ ان میں سے بہتوں کا دوڑنا کتنا پر تکلف یا ابطور تماشہ اور نانک کے ہوتا ہے ۔ وہ صفا پر چڑھتے ہیں، وہ مروہ پر چڑھتے ہیں ۔ وہ صفا اور مروہ کے درمیان درمیان دوڑتے بھی ہیں ۔ مگر ان کے دل جذبات سے کلیہ کمائی ہوتے ہیں انہیں یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ آج سے ۳۸ سو سال پہلے سی مقام پر ایک ماں دوڑ رہی تھی ۔ ایسے شدید جذبات کے ساتھ کہ دنیا میں شاید ہی کسی اور ماں کے ایسے شدید جذبات ہوں۔ ایسی شدید تکلیف کی حالت میں کہ دنیا میں شاید ہی کسی ماں کو ایسی شدید تکلیف پہنچی ہو۔ وہ اور اس کا اکلوتا بچہ ایک بے آب وگیاہ جنگل میں جس میں منزلوں تک پانی کا کوئی نشان نہ تھا۔ پڑے تھے اور اس کا وہ اکلوتا بچہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اپنی جان دے رہا تھا ہونے کے لئے نہیں۔ چاندی کے لئے نہیں۔ ہیروں اور جواہرات کے لئے نہیں بلکہ پانی کے ایک چھلو کے لئے جو ایک چوہڑے کو بھی مل جاتا ہے۔ کون ہے جو ان جذبات کو سمجھے کون ہے جو اس حقیقت پر نگاہ ڈالے ۔ دوڑنے والے دوڑتے ہیں حج کرنے والے حج کرتے ہیں۔ مگر وہ تھی دل ہوتے ہیں اور اسی لئے تہی دست واپس آجاتے ہیں ۔ اگر کسی شخص کے دل میں صفا اور مروہ پر دوڑتے وقت وہی جذبات پیدا ہوں جو ہاجرہ کے دل میں پیدا ہوئے تھے تو اگر وہ یہاں سے مٹی ہو کر بھی گیا تھا تو سونا بن کر واپس آئے گا اور اگر تا نیا ہو کر گیا تھا تو اکسیر بن کر اپس آئے گا کیونکہ صفا اور اور م مردہ انسان کو پاک نہیں کرتے اور نہ صفا اور مروہ کی وجہ سے فرشتہ نازل ہوا تھا بلکہ ہاجرہ کے دل کی تکلیف کی وجہ سے جو اس نے خدا کے لئے برداشت کی فرشتہ نازل ہوا تھا۔ حضرت ہاجرہ نے موت کو سامنے کھڑے ہوئے دیکھا اور پھر بھی خدا تعالے پر اعتبار کیا۔ اور حضرت ابراہیم سے کہ دیا کہ اگر خدا تعالے نے ہمیں اس جگہ چھوڑ دینے کو کہا ہے تو وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ نہیں خدا تعالیٰ نے بھی نہ چاہا کہ اس کے اعتماد کو ضائع کرے ۔ اگر وہی دل لیکر آج بھی کوئی صفا اور مروہ پر دوڑے تو وہ ہاجرہ کی صفات اپنے اندر لے لیگا ۔ وہ اسماعیلی صفت انسان بن جائے گا۔ وہ حضرت ابراہیم کی صفات کا منظر ہو جائے گا۔ مگر ان قربانیوں کے مقابلہ میں کتنی حقیر قربانیاں ہیں جو لوگ کرتے ہیں اور پھر کس قدر بے حقیقت دعوے ہیں جو ان کی زبان پر آتے ہیں ۔ آج اسلام کے لئے کس قدر نازک وقت ہے کتنی تاریک گھٹائیں ہیں جو اسلام پر چھائی ہوئی ہیں۔ اگر ہر مسلمان کی گردن آج تلوار کے نیچے ہوتی اگر ہر مسلمان کا سر آج جلاد کے چمڑے کے اوپر رکھا ہوا ہوتا تو میں سمجھتا کہ اسلام ہر گز اس خطرہ میں نہیں جس خطرہ میں وہ آج گھرا ہوا ہے۔ کیونکہ ایک سے مسلمان کی گردن کا تلوار کے نیچے ہونا اتنی خطر ناک بات نہیں جتنی خطرناک بات