خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 13

الم نشان یہ ہے کہ مومن ہجرت کرے ۔ اپنے موٹے کی راہ میں دُکھ دیا جائے مخالف مخالفین حق ۔ حق سے مقابلہ کرے اس کے عوض میں اس کی بدیوں کو مٹا دوں گا اور جنات میں داخل کروں گا۔ چونکہ یہ عید کا موقعہ ہے لوگ قربانیاں کریں گے اس لئے یہ بیان کر دینا بھی ضروری ہے کہ لَن يَنَالَ اللهَ لَحُومُهَا وَلَا دِمَاءُ هَا وَلَكِنْ تَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُم قربانیوں کا گوشت اور خون اللہ تک نہیں پہنچتا کیونکہ خون تو مٹی میں مل جاتا ہے اور گوشت بھی نہیں پہنچتا کیونکہ وہ بھی تم خود کھا لیتے ہو۔ ہڈیاں پھینکی جاتی ہیں۔ پھر اس قربانی کا فائدہ کیا ہے وَلكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ تمہارا تقویٰ خدا تک پہنچتا ہے، ا تقوی خدا تک پہنچتا ہے اور اس کی غرض یہ ہے کہ اپنے نفس کو قربان کر دو۔ قربانی کے وقت مومن اقرار کرتا ہے کہ جیسے اس بکری نے سر آگئے ڈال دیا اسی طرح میں اپنے نفس کے خیالات پر اسے میرے مولی ! حضور کے ارادے کے مقابل چھری پھیرتا ہوں اور یہی وہ بات ہے جو خدا کے ہر مناد کے وقت اللہ تعالیٰ لوگوں سے چاہتا ہے اور یہ وہ سچی عید ہے جس کی آرزو ہر مومن کو چاہیئے ۔ اللہ تعالے توفیق دے کہ ہم نفسوں کی قربانیاں کر سکیں ۔ کمزوریاں دور ہوں کامل محبت پیدا ہو۔ اعلیٰ سے اعلیٰ نیک بندوں کے انعام حاصل ہوں اور ہمیں وہ عید نصیب ہو جس میں کوئی دکھ نہ ہوا اور جس میں عید منانے والوں کے سروں پر خدا کی رحمت کا سایہ ہوتا ہے اور جس عید کی کوئی شام نہیں ہوتی ۔ آمین ۔ و الفضل ۳۱ اکتو بر شاشه م ۸۰۰) ه آل عمران ۳ : ۱۹۴ تا ۱۹۰ - له الذریت ۵۰:۵۱- لسان العرب جلد ۳ ص ۲۷ زیر لفظ عبد ه - لمحفوظات جلد ۳ ص ۲۹۹ روحانی خونه ائن جلد ۲۲ (حقیقة الوحی صداه 1۔ GEORGE SALE, THE KORAN۔P۔50 2, MAXMULLER, THE SACRED BOOKS OF THE EAST, PTXAY (INTRODUCTION) 3, SIR WILLIAM MUIR, THE LIFE OF MAHOMET۔ P 348 تجدید دین کی طرف اشارہ ہے۔ سنن ابو داؤد کتاب الملاحم باب ما یذکر فی قون المائة میں ہر صدی میں مجدد آنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ شک النساء ۴ : ۱۲۳ ۔ ہے ۔ بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۳۵ - ۶۱۹۰۸ مسیح موعود و محمدی محمود عليه الصلوة و السلام) - روحانی خزائن جلد ، و تحفہ گولز دیده) ۲۵ - روحانی خزائن جلد ۱۶ خطبه الهامیه، ص۵۹ - ملفوظات جلد ، فت ۳ نه - الحج ۲۲ : ۳۸