خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 12

۱۲ به با تیں دوسروں کے لئے بطور قصہ کہانی کے ہوں مگر ہمارے لئے نہیں ہو سکتیں کیونکہ ہم نے اپنی آنکھوں سے خدا کے ایک مناد کو دیکھا ۔ لوگوں نے چاہا کہ اُسے مسل دیں مگر وہ مظفر و منصور ہوا ۔ جو خاک اس چاند پہ ڈالنی چاہتے تھے وہ انہی لوگوں کے مونہوں پر پڑی ۔ یہ سلسلہ ایک بچہ کے مانند تھا جس کے گرد کئی خونخوار شیر تھے۔ جن کے مونہوں کو انسانی خون لگ چکا ہو۔ حملہ کرنے کے لئے کھڑے ہوں ۔ غیب سے ایک ہاتھ نکلا اور اس نے شیر کے جبڑے کو چیر دیا پس اس عظیم الشان نصرت کے بعد ہم کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا مولئے ہمارے ساتھ نہیں۔ اب جو انعامات میں کمی رہے گی تو اسی لئے کہ خود ہمارے عہدوں کے ایفاء میں کوئی نقص ہوگا۔ ہمیں چاہیئے کہ خدا کے رستے ہیں دُکھ اُٹھائیں ۔ نفسوں کو قربانی کے لئے تیار کریں یعنی وہ پورے طور پر خدا کی رضا مندی کے نیچے ہوں ۔ ہم اُس کی راہ میں ہجرت کریں ۔ ہجرت سے مراد وطنوں کو چھوڑ دینا ہی نہیں ۔ ہجرت کیا ہے ۔ ان خیالات بد کو چھوڑ دینا جن میں پہلے تھے۔ ان بڑے دوستوں کو چھوڑ دینا جو دینی ترقی میں خارج ہوں ۔ پھر ضرور ہے کہ ہم گھروں سے نکالے جائیں گھر سے مراد سستی کاہلی غفلت کا مقام چھوڑ دیتا ہے ۔ پھر ہم میں یہ بات ہو کہ ہمیں محض خدا کے لئے خدا کی راہ میں رکھ دیا جائے ۔ جو متبع کامل ہو اس کو ضرور دکھ دیا جاتا ہے ۔ جو دنیا داروں کے دکھوں سے بچا رہے اُسے سوچنا چاہیئے کہ اس کے ایمان میں کوئی نقص تو نہیں دیکھو گاؤں میں کوئی سفید پوش جائے تو کتے اسے بھونکتے ہیں، وہ اسے بیگا نہ سمجھتے ہیں۔ اسی طرح جو دنیا کے کل مکروہات سے پاک ہو گا، دنیا پرست اس کی ضرور مخالفت کریں گے اور جس کی مخالفت نہ نہ ہو اسے ضرور ان سے مناسبت ہے جبھی تو وہ اس کی مخالفت نہیں کرتے ۔ اگر مومن کے نفس کے اندر تبدیلی پیدا ہو اور وہ ہر طرح کی دنس سے پاک ہو تو کلاب الدنیا کا بہو سکنا بھی اس کیلئے بطور لازم و ملزوم ہے ۔ کتا تو غیر جنس ہے اس کتے کو تو پتھر مارا جائے گا۔ مگر یہ کتے ایسے نہیں ہوتے کہ انہیں نچھر مارا جائے بلکہ ان کے لئے بھی علاج ہے کہ خوب ڈٹ کران کا مقابلہ کیا جائے اور نہ صرف اپنی حفاظت کریں بلکہ دوسروں کو بھی بچائیں ۔ پہلے تو تلوار کا جہاد تھا اس لئے قتلوا وقت کو اسے اور مراد تھی مگر اب تو دلائل کی شمشیر سے جہاد کرنے کا زمانہ ہے۔ ہے ۔ اس اس لئے سب کو مقبول ہونا پڑے گا۔ یعنی دین کی اشاعت میں ایسا انہماک ہو کہ اسی میں موت آجائے ۔ ایسے لوگوں کے لئے وعدہ الہی ہے کہ ان کی بدیاں چھپا دیجائیں گی۔ ایسے آدمیوں پر یہ فضل الہی ہوتا ہے کہ اگر ان میں کوئی بدی فی الواقعہ بھی ہو اور اسے کوئی شائع کرنا چا ہے تو خدا کا غضب اس پر نازل ہوتا ہے۔ کیونکہ خدا تو اپنے بندے کی عزت قائم کرنا چاہتا ہے اور یہ اس عزت میں رخنہ ڈالتا ہے ۔ پس فرمایا ہے کہ میرے ساتھ کامل محبت کرو جس کا τ