خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 189

۱۸۹ اگلے جہان میں موجود ہوتی ہیں ۔ اور اگر دنیا میں اس کی اولاد ہے تو خدا تعالے کی مشیت کے ا تحت اکثر لوگوں کی اولاد کچھ زندہ رہتی اور کچھ مر جاتی ہے۔ پس اگر اس دنیا میں اس کی کچھ زندہ اولاد موجود ہوتی ہے تو اس کی کچھ اولاد اگلے جہان میں بھی ہوتی ہے جس سے جاملتا ہے۔ تو قربانی گو نی گور پنج اور درد کا جذبہ اپنے اندر اندر رکھتی ہے مگر ساتھ ہی ہی راحت اور آرام کا ۔ اور آرام کا جذبہ بھی اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ اور آج کا دن جو قربانی کا دن ہے، وہ اس قربانی کو یاد دلاتا ہے جو نہایت ہی کامل رنگ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کے حضور پیش کی۔ آج سے قریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے وہ قربانی پیش کی گئی تھی ۔ ساڑھے چار ہزار سال کا عرصہ کوئی معمولی عرصہ نہیں ہوتا ۔ بسا اوقات دس پندرہ دن کے بعد انسان اپنی تکالیف بھول جاتا ہے جس کو سخت بخار چڑھا ہوا ہو ، اس کی ہڈیوں میں درد ہو رہا ہو ، وہ خیائی کرتا ہے کہ ساری عمر میں اس تکلیف کو نہیں بھولوں گا۔ مگر نجار اترنے کے آٹھ دس دن بعد وہ ساری تکلیف بھول جاتا ہے ۔ لوگوں کے عزیز مرجاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا اب ہمارے لئے تلخ ہوگئی۔ لیکن سال دو سال کے بعد وہ اسی طرح ہشاش بشاش ہوتے ہیں جس طرح پہلے اور مرنے والوں کی یاد دلوں سے محو ہو جاتی یا بہت حد تک کمزور ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ عجیب قربانی تھی کہ ساڑھے چار ہزار سال کا عرصہ اس پر گزر گیا مگر آج بھی اس کا خیال کر کے انسان کا دل اعلیٰ درجہ کے جذبات سے معمور ہو جاتا ہے۔ اب بھی جب ہم میں سے کوئی شخص اس نظارے کا خیال کرتا ہے کہ جب حضرت ابنه اسم علیہ السلام نے اپنے اکلوتے بیٹے اسمعیل کو خدا تعالے کے حکم کے ایک ظاہری معنے کرتے ہوئے اس لئے لٹایا کہ وہ اس کو ذبح کریں اور چھری لے کر وہ اس کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہو گئے اور اس بچے نے بھی اس بات کو تسلیم کر لیا کہ اگر خدا تعالے کی سی رضا ہے تو میں اس پر راضی ہوں تو اس کا دل متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا ۔ آج جب کہ اسلام نے اس قسم کی انسانی قربانی کرنے سے منع کر دیا ہے بوجہ اس کے کہ ہم اس کو ممنوع سمجھتے ہیں شاید ہم میں سے بہت اس کی پوری کیفیت نہیں سمجھ سکتے ۔ مگر اُس زمانہ میں جب انسانی قربانی کا رواج تھا جب حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ یقین رکھتے تھے کہ خدا تعالے کا منشا یہ ہے کہ لیکن اپنا بچہ اس کی اہ میں قربان کر دوں جب وہ بچہ بھی سمجھتا تھا کہ خدا تعالے کا منشا یہ ہے کہ مجھے ذبح کر دیا جائے جب نوے سال کی عمر کو پہنچ کر تمام جوانی کی عمر اور تمام ادھیڑ عمر اس امید اور تڑپ میں گزار کر کہ خدا تعالے پاک اولاد دے جو ان کے نام کو قائم رکھنے والی ہو ۔ خدا تعالے نے انہیں جو بچہ دیا اس کے متعلق خدا تعالے نے حکم دے دیا کہ اسے میری راہ میں ذبح کر دیا جائے۔ تو اس لمبی عمر