خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 190

14۔کے بعد جب وہ اکلوتا بچہ اور بوڑھا باپ خدا تعالے کے حکم کو پورا کرنے کے لئے علیحدہ ہوئے ہونگے تو ان کے جذبات کا اندازہ لگانا ہر ایک کے لئے آسان کام نہیں ، صرف اہلِ دل ہی پوری طرح ان جذبات کو سمجھ سکتے ہیں بہت سے لوگ شاید ان کے درد کے جذبات میں شامل ہو سکتے ہیں اور اسی لئے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کا ذکر سنکر بہت سے مردوں اور بہت سی عورتوں کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں گو یا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درد میں شریک ہونے والے موجود ہیں۔مگر وہ لوگ بہت ہی کم ہیں جو اس جذبہ فخر کو محسوس کر سکتے ہیں جو اس وقت حضرت ابراہیم کے دل میں پیدا ہوا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے اس وقت زمین زمین نہیں رہی تھی بلکہ عرش بریں بن گئی تھی ان کے پاؤں زمین پر نہیں پڑتے ملے جبکہ وہ ہوا میں اُڑتے تھے کیو نکہ خدا تعالے نے اپنی راہ میں انہیں قربانی پیش کرنے کا حکم ، بات جسے کسی انسان نے پیش نہیں کیا تھا۔بے شک بحیثیت انسان ان کے دل میں درد بھی خا ن ر ضرور تھا خصوصا وہ ابراہیم جن کے متعلق خدا تعالئے فرماتا ہے کہ وہ حلیم اور اواہ تھا۔بات بات پر اس کے دل سے آہیں نکلتی تھیں اور وہ نہایت رحم دل تھا۔یقینا اس کے دل میں درد بھی پیدا ہوا ہوگا مگر جو چیز حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے اور جو چیز حضرت ام خیل کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے اوہ یہ جذبہ ہے کہ یہ قربانی ہماری ہی ترقی کا موجب ہے۔اور خدا تعالے نے یہ حکم دے کہ ہم پر احسان کیا ہے۔تم میں سے بہت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے غم میں شریک ہو سکتے ہیں۔تم میں سے بہت ان کے درد میں شریک ہو سکتے ہیں۔تمہارے دماغ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دماغ کی نقل کر سکتے اور تمہاری آنکھیں حضرت ابہ اہم علی السلام کی آنکھوں کی نقل کر کے آنسو بہا سکتی ہیں مگر تم میں سے بہت کم ان کے دل کی نقل کر سکی ہے جواس امید اور یقین سے پُر تھا کہ میرے رب نے مجھے اپنے لئے چن لیا۔جب حضرت ابراہیمیہ نے حضرت اسمعیل کو ذبح کرنے کے لئے چھری اُٹھائی تو اس وقت غالب خیال ان کے دل میں یہ نہ تھا کہ میرا بیٹا مجھ سے جدا ہو رہا ہے بلکہ یہ خیال غالب تھا کہ میرا خدا میرے قریب ہو رہا ہے یہی وجہ ہے کہ خدا تعالے نے اس قربانی کو یا د رکھا ور نہ قربانیاں دنیا میں ہمیشہ ہوتی رہتی ہیں۔اس قربانی میں ایک امتیازی نشان تھا اور وہ یہ کہ حضرت ابراہیم کے دل میں درد اور غم کے جذبات غالب نہ تھے بلکہ یہ خیال غالب تھا کہ اللہ تعالے کا کتنا بڑا احسان ہے کہ وہ مجھ سے کام لے رہا ہے۔پھر وہ جذبہ جو حضرت ابراہیم کے دل میں تھا وہ النوں نے دوسروں کی طرف منتقل کر دیا تھا۔گویا وہ اتنا غالب جذب یہ تھا کہ ان کے پاس بیٹھنے والے لوگ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے تھے جس طرح آگ کے پاس بیٹھنے والا گرم