خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 11

11 ہی نہیں مانتا۔ حالانکہ یہ آیت ایسی آیت ہے کہ میں نے کسی اور کتاب آسمانی میں اس مضمون کی آیت نہیں دیکھی۔ جس زور کے ساتھ ساتھ عورتوں کے حقوق اسلام نے قائم کئے ہیں : یں اور ان کے اعمال کی او قبولیت اور انعامات کا ذکر کیا ہے کسی مذہب کی کتاب میں ایسا ذ کر نہیں ۔ پھر قرآن مجید تو جو کہتا ہے اس کی دلیل بھی دیتا ہے۔ چنانچہ یہاں فرمایا ۔ مرد و عورت کو عمل کی جزا یکساں کیوں ملے گی ۔ بَعْضُكُمْ مِّن بَعْضٍ - تم ایک ہی ہو ۔ فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَ أَخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ } فرمایا جنہوں نے چھوڑ دیا ۔ کیا چھوڑ دیا ؟ مال چھوڑ دیئے منہیات سے رک گئے اور اپنے گھروں سے نکالے گئے۔ طرح طرح کے دکھ دیئے گئے۔ اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کی ۔ ایسے لوگوں کی نسبت فرمایا لَا كَفَرَنَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَا دَخِلَنَّهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَرُ مَران مام بدیوں کو ڈھانک دوں گا ۔ اور پھر وہ ایسی جگہوں میں پہنچائے جائیں گے جہاں دکھ اور تکلیف نہ ہوگی اور جہاں انعام کا سلسلہ جاری رہے گا۔ جَنَّتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَرُ ميں ہي دونوں باتیں بتائیں ۔ جنت کہتے ہیں سایہ دار جگہوں کو جہاں تکلیف اور دکھ نہیں ہوتا۔ پھر ان کے نیچے نہروں کا سلسلہ بتا کر سمجھایا کہ وہ جنت سرسبز و شاداب رہیں گے۔ پس اس دنیا میں بھی مومنوں کو جو انعامات ملیں گے وہ جاری رہیں گے۔ ۔ سب سے کامل مومن تو نہی ہوتا ہے۔ اور نبیوں کے سردار حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ہم دکھتے ہیں اس کامل انسان سے زندہ کامل رنگ میں پورا ہوا ۔ آپ نے ایسی ہجرت کی کہ کسی اور نے نہیں کی۔ اپنی جان کو خدا کی راہ میں قربان کیا تو ایسا کیا کہ کوئی اور نہ کرے گا۔ اس کا نتیجہ بھی آپ کو بے مثال ملا۔ باقی نبیوں کے ادیان خاص وقت تک رہے مگر آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ و سلم کو یہ انعام ملا کہ آپ کا سلسلہ قیامت تک رہے گا اور فرما دیا کہ مہارا باغ نہ ہو بھی گا جب کوئی فتور آنے لگے گا تو ایک باغبان بھیجا جائے گا جو اس کو پھر سر سبز و شاداب بنا دے گانے اللہ تعالیٰ نے آپ کے باغ کے نیچے وہ نہر جاری کی کہ جس درخت کے نیچے چلتی ہے اس کو سرسبز و شاداب بنا دیتی ہے۔ جو شخص اس تعلیم پر چلتا ہے۔ صالحین و شہدار و صد یقین سے ہو جاتا ہے اور روحانی و جسمانی انعامات الہیہ سے بقدر اپنی قابلیت کے حصہ پاتا ہے۔ اور اس کے مقابل اگر کوئی آتا ہے تو شکست کھاتا ہے۔ دیکھیے ایک ان پڑھ سے ان پڑھ احمدی سے بھی غیر احمدی ملکاں گھبراتا ہے ۔ پس کچی عید یہی ہے کہ اللہ کے مناد کی آواز کوئن کیا جائے ۔ اور اس کے رستے میں مال و جان قربان کر دیں ۔ یاد رکھو کہ جتنا ہم میں نقص ہوگا اتنی ہی خدا کے احکام را کے احکام میں کمی ہوئی۔ جو لوگ اسلام میں ہو کہ پھر تکلیف میں ہیں ضرور ان کی اطاعت ۔ میں کچھ نقص ہے کیونکہ اللہ تعالی كم کا وعدہ سچا ہے وَ مَنْ اصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا