خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 181

۱۸۱ کوئی بنا سکتا ہے کہ کسی بڑے سے بڑے چور اور ڈاکو کے متعلق اتنی گالیاں سوچی اور کبھی گئی ہوں تو انبیاء کے دشمنوں کا دماغ گند کی ایجاد میں کمال کو پہنچ جاتا ہے اور اس طرح نبوت ایک رنگ میں انعام اور ایک رنگ میں ابتداء ہو جاتی ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ساری عمر قربانی میں گزار دی ۔ مگر جب بادشاہت کا وقت آیا تو حضرت ابو سینہ اور عمر آگئے مگران ان کے زمانہ میں بھی خطرات ابھی باقی تھے اور انہوں نے کوئی ذاتی لذت بادشاہت سے نہیں اُٹھائی۔ ان کے بعد بنو امیہ اور بنو عباسی آگئے ان کے زمانہ میں ساری دنیا فتح ہوئی اور وہ امیر المؤمنین بن گئے ۔ یہ سب انعام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے صلہ میں ملے۔ تو نبی اور خلفاء تو دکھ ہی اٹھاتے ہیں مگر بعد میں آنیوالوں کو انعام ملتے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو حالت تھی اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ عرب میں چیکی نہ ہوتی تھی اور پتھر پر کوٹ کر غلہ کا آٹا بنالیا جاتا جو بہت موٹا ہوتا تھا یہ بعد میں جب ایران فتح ہوا تو وہاں سے چکیاں آئیں۔ اور خوب میں بھی باریک آٹا ملنے لگا۔ ایک دفعہ حضرت عائشہ کے سامنے باریک آٹے کے نرم نرم کھلکے رکھے گئے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگا ہو گئے۔ آپ کی ایک سہیلی نے اس کا سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ ان پھلکوں کا ہر نعمہ میرے گلے میں پھنستا ہے ۔ اس نے کہا یہ تو نرم ہیں ۔ آپ نے کہا کہ میرے دل میں خیال آرہا ہے کہ رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یہ ہوتے تو آپ کو بھی کھلاتے تھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یہ حالت تھی کہ کھانے کو موٹا آٹا ملتا تھا مگر آپ کے طفیل ہزاروں بادشاہ پیدا ہوئے۔ پس نبوت بے شک انعام ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ساری عمر قربانی ہی کرتے رہے۔ یہی حالت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہم دیکھتے ہیں۔ آپ کی ساری عمر اسی طرح گزری کہ کہیں پتھر ہیں ، کہیں گالیاں ہیں کہیں مقدمے دائر کئے جا رہے ہیں ۔ کہیں شورشیں بیا کی جاتی ہیں۔ حتی کہ جس وقت آپ کی وفات ہوئی اس وقت بھی جبکہ ہمارے دل زخمی تھے اور دنیا ہماری آنکھوں میں تیرہ و تار بھی ہزاروں لوگ مغلظ گالیاں بک رہے رہے اور پتھر مار رہے تھے ۔ حالانکہ کسی بڑے سے بڑے چور اور بدمعاش کی وفات پر بھی یہ سلوک کبھی نہیں ہوا ہو گا ۔ ہمارے متعلق کہا جاتا ہے کہ ہم نے اپنی حکومت بنا رکھی ہے لیکن کیا حکومت ایسی ہی ہوتی ہے ؟ ان لوگوں میں سے کوئی ایسا شریف آدمی نہ تھا جو انہیں بنا سکتا کہ مرنے والے سے سے محبت کرنے والے لوگ اندر بیٹھے رو رہے ہیں۔ تم لوگ خدا تعالے کا خوف کرو اور ان کے دل نہ دکھاؤ۔ پھر آپ کے بعد بھی یہی حال ہے ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے