خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 180

۱۸۰ کا لفظ بولتی ہے اور پھر وہ کہتی ہے کہ ذرا الگ میری بات سُن لیں۔ گویا وہ یہ وہ یہ نہیں چاہتی کہ اس کے لازم مشن لیں اور یہیں ذرا پرے ہو کر اس کی بات سنتا ہوں تو وہ کہتی ہے کہ عاشق کو انعام سے کیا تعلق ہے۔ اس کا کام تو قربانی کرنا ہے پھر اسے انعام سے کیا واسطہ میں اسے کہتا ہوں کہ اپنی بات کو ذرا اور واضح کرو۔ اس پر وہ سورۃ الرحمن کی کچھ آیات پڑھ کر کہتی ہے کہ ہے کہ مجھے ان پر کچھ شبہ پیدا ہوتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اسی لئے اس نے کہا تھا کہ الگ ہو کر بات سن لیں کر نا نوکر اسے بے دین نہ سمجھیں حالانکہ یہ کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں ۔ سورہ رحمن کی ان آیات میں اللہ تعالے کے انعامات کا ذکر ہے۔ ا ذکر ہے ۔ میں رویا میں سمجھتا ہوں کہ گو الفاظ خاء عام ہیں مگر یہ انعامات سارے انسانوں کے لئے نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے لئے ہیں اور وہ پو چھتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو عاشق تھے انہیں انعام سے کیا واسطہ ہے اس پر میں نے اسے ایک مثال کے ذریعہ سے سمجھانا چاہا اور اس سے کہا کہ تم یہ بتاؤ کہ ایک بادشاہ ہے اس پر غنیم حملہ کرتا ہے وہ اپنے ایک وفادار خبر نبیل کو بلاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تمہیں تک انڈر بنا کر اس غنیم کے مقابل پر بھیجتا ہوں ۔ اب تم ہی بتاؤ کہ وہ کیا کہے کیا یہ کہے کہ نہیں جو نہیں حضور میں تو خادم اور عاشق ہوں ؟ اور عاشق ہوں مجھے انعام کی ضرورت نہیں یا یہ کہ بہت اچھا حضور اس عورت نے جواب دیا کہ نہیں اسے چاہیئے اس عہدہ کو قبول کرتے ہیں کہتا ہوں کہ بس یہی حال یہاں یہاں ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے جو انعام دنیا ۔ نعام دینا ہے وہ حقیقت میں قربانی ہوتی ہے اس پر اس نے اپنی تسلی کا اظہار کیا اور میری آنکھ کھل گئی ۔ ہی یہ مضمون حقیقت پر مبنی ہے ۔ دیکھو جنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گرد وہ لوگ کھڑے کھڑے ہوتے تھے۔ جو سب سے زیادہ بہادر سمجھے بہادر سمجھے جاتے تھے ہے کیونکہ آپ پر کسی مشین کے تمام حملوں کا دور ہوتا تھا اور ظاہر ہے کہ آپ پر یہ حملے نبوت کی وجہ ہی ہوتے تھے۔ گویا نبوت نے آپ کو بہت بڑی قربانی کے مقام پر کھڑا کر دیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنے انعام آتے ہیں ان کے ساتھ قربانی کا تقاضا لازمی طور پر ہوتا ہے ۔ اللہ تھا۔ اللہ تعالے بنی سے فرمانا ہے کہ جاؤ ہم نے دنیا تیرے ماتحت کر دی۔ مگر پہلے وہ دنیا جو ساخت کی جاتی ہے پتھرمارتی ہے ، گن سکتی ہے، مقد سے چلاتی ہے، دکھ دیتی ہے اور اس طرح نبوت جو دراصل انعام ہے۔ دنیوی نقطہ نگاہ سے بلا بلا ہو جاتی ہے ۔ کونسا نبی آیا ہے جسے گالیاں نہ دی گا نہ دی گئیں تکالیف ایذائیں نہ پہنچائی گئیں۔ انبیاء کو تکالیف دینے والوں کا ذہن برائی کے متعلق اتنا تیز ہو جاتا ہے کہ انسان خیال بھی نہیں کر سکتا کہ اتنی گندی گالیاں بھی دی جا سکتی ہیں ہوگا جو گالیاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی گئیں اور آپ کو ایذا رسانی کی جو تدابیر اختیار کی گئیں کیا اور ابدا