خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 10

دیکھو مجمع میں کسی کا بچہ گم ہو جائے ۔ اور پھر ایک دو گھنٹہ کے بعد جب وہ بچہ اپنے باپ سے ملتا ہے تو بچہ کو اور باپ کو کس قدر خوشی ہوتی ہے ۔ اسی طرح خدا تعالے سے بھڑ کا ہوا بندہ جب خدا سے ملتا ہے اور خدا کے حضور پہنچتا ہے تو بندے کو بھی خوشی ہو تی اب اور اللہ تعالے بھی رمنی ہو تاہ سپس حقیقی عید اگر ہے تو نہی ہے اور یہ عید تو اس عید کی طرف راہنما ہے بعید بھی گھر میں اور وطن میں ہی بھلی معلوم ہوتی ہے ۔ ایک شخص جنگل میں ہو۔ چاروں طرف درندے ہوں ڈاکو ہوں ۔ جان خطرے میں ہو۔ اسے عید کی کیا خوشی ہو سکتی ہے۔ عید تو اس کی ہے جو گھر میں ہو۔ رشتہ داروں میں ہو۔ احباب میں ہو۔ خطرات سے مامون ہو۔ اسی طرح جو انسان خدا کی راہ سے بھڑکا ہوا ہے ۔ ضلالت کے جنگل میں مارا مارا پھر رہا ہے اس کی حقیقی عید کیا ہو سکتی ہے ۔ عید تو خوشی کا نام ہے اور خوشی دل کے اطمینان ، دل کی راحت سے پیدا ہوتی ہے۔ تمام محبتوں کا مرکز تو اللہ تعالے ہے ۔ اسی سے کامل محبت چاہیے اور اسی سے محبت ہو سکتی ہے۔ پس خوشی بھی اسی کو حاصل ہو گی اور حقیقی عید بھی اسی کی ہوگی جو اپنے مولیٰ کے حضور پہنچا ہو گا کیونکہ تمام قسم کی راحتوں، خوشیوں ، عیدوں کا سر شیعہ تو وہی پاک ذات ہے ۔ اسی حالت کے نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کی عیدیں انکل ما تم بن گئی ہیں۔ عید آئی اور ان کے گھروں میں جھگڑا شروع ہوا بیری زیور کے لئے ۔ بچے کپڑوں کے لئے چلا رہے ہیں۔ کھانے کا سامان نہیں سو الگ۔ پھر مفروض ہو کہ تمام سال دکھ میں گزارتے ہیں۔ یہ عیدیں اس لئے نہ تھیں بلکہ یہ عیدیں تو اپنے اندر ایک اور ہی حقیقت رکھتی تھیں جس سے آجکل کے مسلمان بالعموم غافل ہیں ۔ ماہ صیام کی عید میں تو یہ بتایا کہ انسان کو اس وقت کے لئے تیار رہنا چاہیے جب اس کے مولی کی طرف سے مناد آئے۔ وہ کھانے، پینے، بیوی بچوں کے اشتغال سے وقت نکال کر اس کے انصار میں داخل ہو سکے۔ جیسا کہ وہ ماہِ رمضان میں یہ مشق کرتا رہا ہے۔ اور عید قربان میں سکھایا کہ نہ صرف بیرونی انعامات سے بلکہ اندرونی انعامات سے بھی اگر علیحدگی اختیار کرنی پڑے اور اپنی جان قربان کرنی پڑے تو بھی دریغ نہ ہو ۔ جب یہ حالت تم میں پیدا ہو گی تو پھر تمہاری عید ہی عید ہے ۔ خدا کے نبی اکر یہی عہد لیتے ہیں اور سعادت مند یہ اقرار کرتے ہیں فَاسْتَجَابَ لَهُمْ ریم اور ان کا مولئے اسے شرف قبولیت بخشتا ہے ۔ چونکہ ہندوں نے ایک عہد کیا ۔ اس لئے خدا بھی اس کے مقابل پر جزائے خیر دنیا ہے۔ اور ارشاد فرماتا ہے ۔ انّي لَا أُضِيعُ عَمَل عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنثى - میں کسی کام کرنے والے کا کام ضائع نہیں کرتا ۔ مرد ہو یا عورت۔ حیرت آتی ہے کہ حیرت آتی ہے کہ بعض اور میں مصنفین نے لکھا ہے ہے کہ اسلام تو عورتوں میں روح