خطبات محمود (جلد 2) — Page 157
۱۵۷ اللہ تعالے پورا کیا ؟ کیا تمہارا ایمان صرف تمہاری زبانوں تک محدود نہیں۔ کیا واقعی وہ ایمان تمہارے قلوب پر حاوی ہو گیا ۔ کیا واقعہ میں اس نے تمہارے جذبات پر تصرف حاصل کر لیا ۔ اگر کر لیا تو پھر تمہاری سچی عید ہے ۔ اور اگر نہیں بلکہ تمہارا ایمان صرف تمہارے دماغ اور فکر اور زبان تک محدود ہے تو پھر یہ عید تمہارے لئے عید نہیں بلکہ ایک ماتم کا دن ہے دیکھو ایک عورت نے، اس عورت نے جس کی زندگی کا سہارا ایک ہی بچہ تھا اپنے وطن عزیز اور رشتہ داروں کو خدا تعالے کے لئے چھوڑ کر کیسا نمونہ دکھایا ۔ آج خدا اس نمونہ کو قائم کر کے عورتوں سے کہتا ہے کہ تم میں سے ہی ایک عورت تھی جس نے خدا کے لئے یہ نمونہ دکھایا۔ کیا تم اس سے نرالی ہو کہ تمھیں الے کے راستہ میں مصائب برداشت کرنا دو بھر معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ مردوں سے کہنا ہے کہ تمھیں شرم کرنی چاہئیے، ایک عورت نے نحیف ہو کر کمزور ہو کر بے بضاعت ہو کر جب یہ نمونہ دکھا یا تو کیا تم مرد ہو کر جنہیں زیادہ قوتیں دی گئی ہیں ۔ قربانی سے ہچکچاتے ہو۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے خدا کے مسیح کو قبول کیا اور ہمیں اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو چھوڑنا پڑا۔ مگر میں کہتا ہوں تم سے کون ہے جس نے حضرت باجرہ سے زیادہ قربانی کی ہو۔ جس نے اپنے آپ کو ان حالات میں سے گزارا ہو جن کے ماتحت حضرت ابراہیم نے اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھا دیا ۔ اور یقین سے پر ہاجرہ نے کہا۔ اِذن لا يُضيعنا ۔ ہم کو بھی خدا کے ایک نامور کی صحبت نصیب ہوئی ۔ ہمیں بھی اس پر ایمان لانے کا موقعہ عطا ہوا ۔ مگر کیا ہم جو اس مامور پر ایمان لائے دھوئی سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے حضرت ہاجرہ جیسی قربانی کی ؟ کیا ہمیں دشمنوں کی عداوت کو دیکھ کر یہ نہیں کہنا چاہیے ۔ اِذَنَ لا يُضَيعُنَا اگر حضرت ہاجرہ - ہاجرہ کے دل میں ہمعیل کی اس کی اس تڑپ اور موت کی سی حالت کو دیکھ کر کرب و اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ اور وہ بے تابانہ صفا و مروہ پر کو دوڑتی اور سات چکر لگاتی ہیں تو کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لاتے ہوئے دین کے لئے جبکہ ہم اس دین کو آج موت کی حالت میں دیکھ رہے ہیں ہمارے دلوں میں کرب و اضطراب پیدا نہیں ہونا چاہئیے ۔ ہم اس بات کے دعویدار ہیں کہ ہم حضرت مسیح موعود پر ایمان لاکر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ میں داخل ہو گئے تفکر کیا ایمان اس بات کا نام نہیں کہ اپنی ہر چیز خدا کے مقابل پر ہماری نظروں میں بیچ ہو جائے۔ اور جس طرح حضرت ہاجرہ نے اپنے بچہ کے لئے قربانی کی ہم اسلام کے لئے قربانی کریں ۔ یقینا اگر غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ آج دین کی نہایت ہی نازک حالت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس حالت کو ایک بیمار بچہ سے شبیہ دی ہے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہر طرف کفر است جو شاں ہمچو افواج یزید دین حق بیمار و سبکیں ہمچو زین العابدین