خطبات محمود (جلد 2) — Page 136
کہ ایسی قوم کی موجودگی میں نئی بنیاد ڈالنا فضول ہے۔جب خدا تعالے کی طرف سے ایک قوم کے متعلق فیصلہ ہو گیا کہ وہ اپنی عمر کو پہنچ گئی تو اس پر قوت کو ضائع نہیں کیا جا سکتا۔دیکھو اگر ایک بچہ اور بوڑھا ہو اور دونوں کے لئے غذا میسر نہ آتی ہو لیکن اتفاقاً کوئی چیز کھانے کو مل جاتے اور یہ سوال پیدا ہو کہ کسے دی جائے تو ضرور پہلے بچہ کو ہی دی جائے گی تا کہ اس کی زندگی قائم رہے اور یہ ایک فطری احساس ہے جو ہر ماں باپ میں پایا جاتا ہے۔ماں باپ خود قربان ہو جائیں گے لیکن بچہ کو تکلیف نہیں ہونے دیں گے۔اور یہ بات کسی عقل کے ماتحت نہیں بلکہ فطرت کے ماتحت ہے۔لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ در اصل فضل کے عین مطابق ہے۔ماں باپ اپنی عمر کا بہترین حصہ گزار چکے ہوتے ہیں لیکن بچہ کے لئے ابھی کام کرنے کا میدان کھلا ہوتا ہے۔اس وجہ سے ماں باپ اپنے آپ کو اپنی اولاد پر قربان کر دیتے ہیں۔تو خدا تعالئے جب کوئی نئی جماعت قائم کرتا ہے، اسے دوسروں سے الگ کر دیا ہے تا اسے ترقی کرنے کے لئے کافی غذا مل سکے، ملکہ اگر دوسروں کی غذا بند کر کے بھی اسے دینی پڑے تو دیتا ہے۔ہماری جماعت بھی وہ نیا پودا ہے جسے خدا تعالے نے اس زمانہ میں لگائیں۔خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام کیا۔غرستُ لكَ بِيَدِي دَوْحَةٌ إِسْمَعِيلَ له اس کے یہی معنے ہیں کہ جس طرح اسماعیل کو علیحدہ کر کے بسایا تھا۔اسی طرح احمدیت کو بھی دوسروں سے علیحدہ قائم کروں گا۔چونکہ لوگوں نے اعتراض کرنا تھا کہ ان لوگوں نے اپنی نمازیں ، شادی بیاه جنازه و غیرہ کیوں علیحدہ کر لئے ؟ اس لئے اس الہام میں خدا اتقائے نے اس کا ایک جواب دیا ہے کہ آجیل کو بھی ابراہیم نے دوسروں سے بالکل علیحدہ کر دیا تھا۔اور یہ ظلم، فساد اور تفرقہ نہیں تھا بلکہ ضروری تھا تا محمدی نور ترقی کر سکے۔اس زمانہ میں بھی محمدی نور مدھم ہورہاتھا، اس لئے خدا تعالے نے پھر احمدیت کے پودے کو علیحدہ کر کے لگایا اور اسماعیلی پودے کی طرح اسے بھی وادی غیر زرع میں لگایا یعنی قادیان میں جو ترقی یافتہ اور متمدن دنیا سے بالکل الگ اور علیحدہ مقام ہے۔پھر اس کی حفاظت بھی ایک بے کس اور ناتوان جماعت کے سپرد کی تا دنیا اس کی طرف لانچ کی نگاہ سے نہ دیکھے اور محمدی نور پھر بنیا میں ترقی کرے۔اس میں شبہ نہیں کہ ایک نادان بوڑھا مالی جو اپنے پر اپنے درختوں کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے نئے درخت لگائے جانے کو اپنی شارہ سمجھتا ہے لیکن اسے کیا معلوم کہ اس کا باغ تباہ ہونے والا ہے اور اگر پھل کو دنیا میں قائم رکھنا ہے تو ضروری ہے کہ نئے نئے درخت لگائے جائیں۔ہماری جماعت کے بعض دوست دنیا کی مخالفت کو دیکھ کر گھبراتے ہیں۔حالانکہ ساری دنیا ہماری مخالف نہیں۔فطرت صحیحہ ہماری تائید میں ہے۔مخالفت ہمیشہ شیطانی وساوس سے ہوتی ہے