خطبات محمود (جلد 2) — Page 137
۱۳۷ انسانیت کی طرف سے نہیں اور اشد تورین مخالفوں پر بھی جب کبھی انسانیت کا دور آتا ہے تو ان کو دل ہماری تائید ہی کرتا ہے ، اگر چہ وہ اسے ظاہر نہ کر سکیں۔دنیا میں جتنے بھی شریف لوگ ہیں خواہ وہ ہندو ہوں یا عیسائی، یہودی یا کسی اور قوم سے تعلق رکھتے ہوں وہ ضرور ہماری تائید کرتے ہیں۔چند دن ہوئے ایک ڈچ کانس گیاں آیا۔وہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتا ہے لیکن یہاں کی زندگی کے متعلق اس نے کہا۔لیکن بائیبل میں حواریوں کی زندگی کے حالات پڑھ کر حیران ہوا کرتا تھا کہ کیا ایسی زندگی ممکن ہے لیکن یہاں آکر ان کی زندگی کا عملی نمونہ نظر آگیا۔وہ عیسائی تھا اور سیاسیات سے تعلق رکھتا تھا لیکن یہاں جس چیز نے اسے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہ تھی کہ یہاں اسے حضرت مسیح علیہ السلام اور آپ کے حواریوں کی زندگی کے متعلق بائیبل کے بیانات کی جنہیں وہ نا ممکن سمجھا کرتا تھا تصدیق ہوگئی تو ایک شریف انسان خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو وہ اس جدوجہد کو جو دنیا کی اصلاح کے لئے ہم کر رہے ہیں قدر کی نگاہ سے دیکھیگا۔ہاں جن کے دلوں پر زنگ لگ چکا ہے اور جن کی آنکھیں بیمار ہیں وہ مجبور ہیں انہیں ہمارے اندر کوئی خوبی نظر نہیں آتی۔جس طرح یرقان کا مریض ہر چیز کو زرد ہی دیکھتا ہے ہے یا اور مختلف بیماریوں میں مختلف رنگ نظر آتے ہیں۔یا بعض وقت ہماری کی وجہ سے ایک کے دو دو نظر آتے ہیں۔اسی طرح جن کی روحانی آنکھیں ہمیار اور دل مردہ ہوں ان کو بہر حال ہماری جماعت بھی بری ہی نظر آئے گی میں شخص کی ناک میں پھوڑا ہوا سے ہر چیز اور ہر مقام سے بو ہی آئے گی حالا نکہ بو اس کی اپنی ناک میں ہوتی ہے اسی طرح جن کی ناک اور دل ودماغ میں ہماری ہے، انہیں قرآن، توریت، انجیل ہر جگہ برائی ہی برائی نظر آئے گی۔ممکن ہے مذہب کی پہچ یا لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے وہ اس کا اظہار نہ کریں لیکن اگر انہیں کریدا جائے تو ایسا مسلمان قرآن پر عیسائی انجیل پر یہودی توربیت پر اور سکھ گرنتھ پر معترض نظر آئے گا۔اور جب وہ اپنی کتاب پر سہی معترض ہو تو اس کی طرف سے دوسرے پر اعتراض تعجب انگیز نہیں۔ایسے لوگوں کی طرف کوئی توجہ نہیں کرنی چاہیئے۔صداقت مزہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر کے رہتی ہے لیکن ضروری ہے کہ صداقت پر چلنے کا دخوشی کرنے والے دنیا کو اپنا پھل دکھا ئیں۔دُنیا میں کوئی درخت بغیر پھل کے قیمت نہیں پاتا۔اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کا نیا پودا اسی لئے علیحدہ لگایا ہے کہ دنیا کو ہم اپنے شیریں ثمرات دیں ہے اور اگر نئے پودے پھل نہ دیں تو مالی انہیں کاٹ کر نیا باغ لگاتا ہے۔پس جہاں یہ اعتراض غلط ہے کہ ساری دنیا ہماری مخالف ہے وہاں اگر واقعہ میں ہماری جماعت دنیا میں راحت و آسائش کے لئے مفید نہ ہو تو نا جائز سے ناجائز اعتراض بھی جائز ہی ہوگا۔اس لئے ہماری جماعت کے لوگ اپنے وجودوں کو دنیا کے لئے مفید بنائیں اور اگر وہ ایسا DUTCH Counsel