خطبات محمود (جلد 2) — Page 125
۱۲۵ اب اگر کوئی شخص کہے کہ کسی کے تھوڑے تھوڑے کان کاٹ ڈالے جائیں تو کیا ہرج ہے۔ اس کی سماعت میں تو بے شک بہت تھوڑا فرق آئے گا ۔ مگر اس کی زینت میں فرق ضرور آجائے گا۔ پس کسی چیز کو کامل بنانے کے لئے بعض باتیں اس کی زینیت کے لئے ہوتی ہیں اور یہ قربانی ایسی حکمتوں کے علاوہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی بھی نہیں یاد دلاتی ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس عید کو کھانے پینے کا دن کہا ہے ۔ یہ بظاہر اسراف ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں۔ ملکہ قوموں میں زندگی کا احساس اور امنگ پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تحفہ تحائف تقسیم کرنے کے لئے دن مقرر کئے جائیں اور عید کے دن بھی گوشت بانٹا جاتا ہے ۔ مکہ میں آج کے دن اس قدر بکرے ذبح کئے جاتے ہیں کہ گوشت کھانے والا کوئی نہیں ملتا مگر پھر بھی قربانیاں کی جاتی ہیں ۔ گوشت سکھایا بھی جاسکتا ہے۔ سکھانا بھی جائز رکھا گیا ہے اس لئے سکھا کر اپنے لئے رکھنا بھی جائز ہے اور غربار میں تقسیم بھی کیا جاتا ہے ہے لیکن اگر ضائع بھی ہو جائے تو بھی قربانی ضروری ہے روحانی امور سے تعلق رکھنے والے اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بعض صحابی دن رات مسجد میں بیٹھے رہتے تھے کہ شاید حضور باہر تشریف لے آئیں اور وہ کسی اور وہ کسی بات کے سننے سے محر سے محروم رہ جائیں کے لوگ سمجھتے ہوں گے کہ وہ وقت ضائع کرتے تھے لیکن نہیں و میں وہ بہت بڑی خدمت کر رہے تھے ۔ حضرت ابو ہریرہ کے بھائی ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی حضور ابو ہریرہ مقام دن مسجد میں بیٹھا رہتا ہے اور کوئی کام نہیں کرتا مجھے تمام دن محنت کرنی پڑتی ہے آپ اسے بجھائیں کہ کام کیا کرے ۔ آپ نے فرمایا کہ تمھیں کیا معلوم خدا اسی کے طفیل تھیں بھی رزق دے رہا ہے ہے تو تو اصل میں وہ لوگ وقت ضائع نہیں کرتے تھے بلکہ بہت بڑے ثواب کا کام کرتے تھے۔ پھر رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جوش نے فرمایا ہے کہ جو شخص مسجد میں آکرا ہم کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے تو وہ بھی گویا عبادت میں ہی ہوتا ہے لیے اصل میں خدا تعالی دیکھتا ہے کہ انسان میری راہ میں کسی قدر قربانی کے لئے آمادہ ہے ۔ اگر معمولی قربانی کے لئے تیار ہے تو بڑی کے لئے بھی تیار ہو سکے گا ۔ لوگو اگر تمام بکرے ذبح کر کے گوشت پھینک دیا جائے تو بھی ثواب ہے۔ مگر یہ گوشت تو غرباء میں تقسیم کیا جاتا ہے اور اگر بچ رہے تو پرندوں کو ڈال دیا جائے جن کا حق قرآن کریم نے بھی رکھا ہے کے یعنی جانوروں کا ۔ پس اگر گوشت پھینک دیا جائے اور کتے اور چلیں اُسے جائیں تو بھی یہ ثواب کا موجب ہے ۔ کھا اس قدر فوائد قربانی کے اندر ہیں کہ خواہ اسلام پر کس قدر بھی مصیبت کے دن آئیں تو بھی