خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 124

۱۲۴ حضرت اسمعیل علیہ السلام نے جو قربانی کی یہ عید اس قربانی کی یادگار ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک بیوی نے کہا کہ اسمعیل کے یہاں رہنے سے فساد کا خطرہ ہے یہ اور ح اور حضرت اسمعین نے اس کو مٹانے کے لئے قربانی کو قبول کیا تو اللہ تعالے نے ہمیشہ کے لئے اس کو ۔ سے امن قائم کرنے والا بنایا۔ اور اس کی اولاد کے ذریعہ دنیا میں مذہب اسلام نازل کر کے اس کو ہمیشہ کے لئے امن قائم کرنے والا قرار دیا ہی اسلام اسلام - کے معنے ہیں سلامتی ۔ اور اسلام سے تعلق رکھنے کا نام ایمان ہے جس کے معنے امن کے ہیں کہ چونکہ حضرت اسمعیل علیہ السلام نے ایک گھر کا فسا دور کرنے کے لئے لئے قربانی کی اللہ تعالیٰ نے انہیں ساری دنیا کا امن قائم کرنیوالا بنا دیا ۔ حقیقت ہے اس قربانی کی اور جب تک اس کو نہیں سمجھا جاتا اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ تعجب ہے کہ بعض لوگ قربانی پر اعتراض کرتے ہیں اور اس کو اسراف قرار دیتے ہیں۔ اور وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ کیوں نہ یہ روپیہ خدمت دین اور اشاعت اسلام کے لئے خرچ کیا جائے۔ ایسے لوگوں کو یا د رکھنا چاہئے کہ خواہ یہ سوال نیک نیتی سے ہی کیوں کہا جائے یہ سے ہی کا نہ کی پھر بھی یہ وسوسہ شیطانی ہے اور شیطان بعض اوقات دین کے معاملہ میں اچھی صورت سے بھی وسو سے ڈالتا ہے۔ ایک جگہ ایک بزرگ کی دعوت تھی ۔ جب کھانا پینا گیا تو انہوں نے ہاتھ کھینچ لیا اور کھانے سے انکار کر دیا ۔ جب وجہ دریافت کی گئی تو کہا کہ چونکہ اس کھانے کی طرف بہت زیادہ رغبت کردیا ہو رہی ہے اس لئے میں نے اسے کھانا پسند نہیں کیا۔ اب گو دعوت قبول کرنا سنت ہے مگر انہوں نے کہا کہ نفس کی اس قدر رغبت شک ڈالتی ہے کہ ضرور اس کھانے میں کوئی نقص ہے۔ میزبان نے کہا۔ اس میں کوئی نقص تو نہیں ، یہ حلال مال ہے ۔ مگر انہوں نے کہا ۔ ضرور کوئی نقص ہوگا۔ تحقیق کی جائے ۔ غرض قصائی سے پوچھا گیا تھا اس نے کہا کہ میرا اونٹ مرگیا تھا میں نے سمجھا بہت نقصان ہوگا ۔ اس لئے اسے کاٹ کر بیچے ڈالا ۔ تو شیطان بعض اوقات کسی کام کی زیادہ رغبت دلا کر بھی وسوسہ پیدا کرتا ہے۔ بظاہر تو دین کے رستہ میں مال خرچ کرنا بہت اچھی بات ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہیں میں دین زیادہ غریب تھا۔ صحابہ کئی کئی وقت تک بھوک کی وجہ سے پیٹوں پر پتھر باندھ رکھتے ہیں مگر با وجود اس غربت و افلاس کے وہ قربانی کرتے تھے تو اب اسلام کی خدمت کے خیال سے قربانی چھوڑنا کیونکر جائزہ ہو سکتا ہے ۔ اسلام اور روحانیت کسی ایک چیز کا نام نہیں بلکہ کئی چیزوں کا نام ہے۔ جس طرح آنکھ ، کان ، ناک غرض کہ تمام اعضاء مل کر ایک خوبصورت اور مکمل انسان بنتا ہے اسی طرح روحانیت کے لئے کئی ایک چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔