خطبات محمود (جلد 2) — Page 100
۱۰۰ عنہ کہا بھی گیا ہے کہ تم میں سے ایک ایک کو دس دس کا مقابلہ کرنا پڑے گائے مگر باوجود اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی غزوہ میں بھی یہ حالت نہیں ہوئی کہ ایک مسلمان کو دس کا فروں کا مقابلہ کرنا پڑا ہو۔ زیادہ سے زیادہ ایک مسلمان کو اس کا فروں کا مقابلہ کرنا پڑا ۔ ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وقت میں کہیں سے بھی زیادہ کا مقابلہ کرنا پڑا ۔ چنانچہ مسلمان ایک جنگ پر گئے ہوئے تھے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ جرنیل تھے۔ مسلمانوں کی تعداد کم تھی ۔ کی تعداد کم تھی ۔ ابو عبیدہ رضی اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ یہ دبھیجی جائے ۔ انہوں نے کہلا بھیجا۔ میں عقبہ کو بھیجتا ہوں ۔ عقبہ ہزار آدمی کے برابر ہے سمجھ لو کہ ہزار آدمی بھیج دیا تو حضرت عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بڑھ کر قربانی نہیں چاہتے تھے ۔ بلکہ بات یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت میں وہ حالات پیدا نہیں ہوئے تھے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وقت میں پیدا ہو گئے تھے اور ادھر مسلمان اور ادھر مسلمان بھی ترقی کر گئے ۔ تو بعض وقت ایک عمل ہوتا ہے جو دوسرے دل میں رعب ڈال دیتا ہے اگر انسان خطرہ کے وقت اپنے حواس سجا رکھے اور اپنی ACCUMULATIVE POWER کا بجا استعمال کرے تو ایسا کام بھی کر لیتا ہے جو اس کی دھاک بٹھا دیتا ہے ، خواہ وہ کمزور ہی کیوں نہ ہو ۔ حضرت مسیح موعود فرماتے تھے ۔ رستم کے گھر میں ایک دفعہ چور آیا وہ رستم سے زیادہ طاقتور تھا۔ لیکن رستم کا نام چونکہ طاقت میں مشہور تھا۔ چور کو اس سے کبھی طاقت آزمائی کا موقعہ نہ ملا تھا۔ اس دن جب رستم نے پکڑا تو اس نے رستم کو گرا لیا۔ اور اس کی چھاتی پر چوٹھ بیٹھا اس پر رستم نے کو اور چلا کر کہا۔ آگیا رستم آگیا رستم با یہ سن کر خود بھاگ گیا۔ یہ رستم کے نام کا اثر تھا کہ اس نے ایسے طاقتور کو بھگا دیا جس نے رستم کو لایا ہوا تھا یہ تو قبہ رضی الہ عنہ کا معاملہ بھی ایک طرح پراسی رنگ کا ہے ۔ عقبہ بڑا بہادر تھا۔ اور حضرت؟ اور تھا ۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یہ کہلا بھیجنے پر کہ یہ ہزار آدمی کے برابر ہے مسلمانوں کے دل میں تسلی پیدا ہو گئی ۔ دنیا میں جب کوئی انسان کوئی کام کرتا ہے تو اسے اس کے لئے طاقت بھی مل جاتی ہے یہی حال یہاں بھی ہے۔ لیکن کام کرنے کا عزم ہونا چاہیئے۔ پس ہماری جماعت جو کام کرنے کے لئے خدا نے قائم کی ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اگر وہ کوئی کام کرنا چاہے تو اسے اس کی طاقت نہ ملے لیکن کام حالات کے لحاظ سے کئے جاتے ہیں۔ چونکہ ابتدائی حالات کمزور ہوتے ہیں اس لئے ابتدائی کام بھی بلکے ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ابتدائی مطالبوں اور آجکل کے مطالبوں میں فرق نظر آتا ہے۔ پہلے جو مطالبہ کیا گیا وہ اس کی پہلی حالت کے مطابق تھا ۔ پھر جو کیا گیا تو وہ اسکی دوسری حالت کے مطابق تھا۔ اسی طرح جیسے جیسے حالت ترقی کرتی چلی گئی ، مطالبے بھی بڑھتے چکے