خطبات محمود (جلد 2) — Page 92
۹۲ ہم کو نہیں بتائی گئیں لیکن جو بتائی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰة و السلام کی یاد گار ہے۔ ہم اسے عید اور پھر قربانی کی عید کہتے ہیں۔ اور قربانی کی عید سے ہماری یہ مراد ہوتی ہے کہ اس دن آسودہ ممال لوگ بکروں یا گائیوں یا اونٹوں کی قربانیاں کریں۔ خود بھی کھائیں اور دوسروں کو بھی کھلائیں ۔ ۔ اس عید کے دن کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس دن قربانی کی جاتی ہے اس کے سو مسلمانوں کے لئے ایک اور بھی عید ہے جو عید الفطر کھلاتی ہے اُس میں اور اس عید میں ایک فرق ہے جسے ہر شخص محسوس کرتا ہے۔ پہلی عید فاقہ کی عید تھی وہ ایک مہینہ فاقہ کرنے کے بعد آتی ہے اپنی کسی غرض کے لئے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے فاقہ سے رہتے ہیں ۔ مگر آج کی عید کھانے پینے ں ۔ مگر آج کی عید لکھا ۔ کی عید ہے اور جس طرح اس عید سے پہلے محض خدا کی رضا کے لئے فاقہ کئے اسی طرح خدا تعالے کی خاطر آج گوشت کھائیں گے ۔ تو دونوں میں فرق نمایاں ہے ، ایک میں فاقہ دوسری میں کھانا۔ یہ میری منشاء نہیں کہ مسلمان عیدوں پر محض اس لئے خوش ہوتا ہے کہ ایک میں فاقہ کرتا ہے اور دوسری میں گوشت کھاتا ہے ۔ بلکہ میری نعشا یہ بتانا ہے کہ مسلمانوں کی عید در حقیقت فرمانبرداری میں ہے جو اس سے یہ سمجھتے ہیں کہ تکلیفوں کے اٹھانے کی وجہ سے خوشی ہے وہ بھی نادان ہیں اور جو یہ سمجھتے ہیں کہ خوشی صرف کھانے پینے میں ہی ہے ، وہ بھی نادان ہیں ۔ خوشی ان میں نہیں بلکہ خوشی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں ہے ۔ اگر اللہ تعالنے کی اطاعت میں فاقہ کرنا پڑے یا کھانا کھانا پڑے تو یہی خوشی ہوتی ہے اور یہی عید ہے۔ ضرب المثل کے طور پر یہ بات مشہور چلی آتی ہے کہ ایک بھیڑ ہے اور ایک شیر کے درمیان سردی کے بارے میں اختلاف ہو گیا۔ شیر کے سردی پوہ کے مہینے میں زیادہ ہوتی ہے بھیڑیا کے ماگھ کے مہینے میں زیادہ ہوتی ہے۔ آخر جب جھگڑا بڑھا تو قرار پایا کہ لومڑی سے فیصلہ کر لیا جاست چنانچہ انہوں نے لومڑی سے پوچھا ۔ اس نے دیکھا اگر میں پوہ کہتی ہوں تو بھیڑیا کھا جاتا ہے اور ماگھ بتاتی ہوں تو شیر بگڑتا ہے۔ یہ سوچ کر اس نے کہا ہے سنو سنگھ سردار بھگیلا رائے جی پالا پوہ نہ پالا ماگھ جی پالامینهرند ، پالا واجی یعنی پوہ اور ماگھ میں سردی نہیں ہوتی ۔ سردی سرد ہوا سے ہوتی ہے تو یہ سمجھنا کہ خدا فاقوں سے خوش ہوتا ہے یا گوشت کھانے سے خوش ہوتا ہے۔ غلط ہے بع من قوموں میں فاقہ کشی کا بڑا رواج ہے۔ وہ کثرت سے فاقہ کشی کرتی ہیں اور سمجھتی ہیں خدا تعالے کھانے پینے سے نہیں بلکہ فاقہ کشی سے خوش ہوتا ہے۔ سادھو۔ رومن کیتھولک اور