خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 91

فرموده ۱۲۲ جون ۱۹۲۶ به مقامه دَانَ مِنْ شِيعَتِهِ لَا بَرَاهِيمَ، إِذْ جَاءَ رَبَّهُ بِقَلْبٍ سَلِيمِهِ إِذْ قَالَ لابِيهِ وَقَوْمِهِ مَاذَا تَعْبُدُونَ: أَيْضًا أَلِهَةٌ دُونَ اللَّهِ تُرِيدُ وَنَ فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعَلَمِينَ، فَنَظَرَ نَظَرَةً فِي النُّجُومِهُ فَقَالَ إِنّي سَقِيْمُه فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِيْنَ ، فَرَاعَ إِلَى الهَتِهِمْ فَقَالَ الانا كُلوي ما تكُمْ لَاتَنْطِقُونَ، فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ ، فَاقْبَلُوا إِلَيْهِ يَتُونَ، قَالَ اتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَهُ وَ اللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ۔قالوا انتوالَهُ بُنْيَانَ فَالْقُوهُ فِي الْجَحِيمِهِ فَارَادُوْا بِهِ كَيْدًا تجعلتهُمُ الأَسْفَلِينَ، وَقَالَ إِنّى ذَاهِب إلى رَى سَيَهْدِينِ رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّلِحِينَ ، فَبَشِّرْنَهُ بِغُلَمٍ حَلِيْمٍ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ بُنَيَّ : أَرى فِي الْمَنَامِ آتِي اذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا ترى ، قَالَ يَاتِتِ الْعَل مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصَّبِرِينَ، فَلَمَّا أَسْلَمَا وَ تَلَّهُ لِلْجَبَيْنَهُ وَنَا دَيْنَهُ أَنْ يَا بْرَاهِيمَ قَدْ صَدَقْتُ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ، إِنَّ هَذَا لَهُوَ البوا المُبِينُ ، وَنَدَيْنَهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ، وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الأخرينَ سَلَمٌ عَلَى إِبْرَاهِيمَ میں نے اس وقت جو چند آیات اللہ تعالے کے مقدس اور ہادی کلام میں سے پڑھی ہیں وہ خصوصیت سے اس دن کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں جو آج ہم پر گذر رہا ہے۔یہ دن اسلامی اصطلاح کی رو سے عید کا دن ہے۔اور اس کا تعین خصوصیت سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی یاد گار کے طور پر خصوصیت کے ساتھ اس دن کی یاد کو تازہ رکھا جاتا ہے۔خصوصیت سے اس لئے کہ اللہ تعالے کی حکمتوں سے آگاہ ہونا انسان کے لئے ناممکن ہے۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ کسی کام کے متعلق اس کی کیا حکمت ہے اور پھر ایک ہے یا کئی حکمتیں ہیں۔البتہ جو بنا دی جاتی ہیں ان کے متعلق ہم کسی حد تک کچھ کر سکتے ہیں۔چونکہ اللہ تعالے کے ہر کام میں کچھ نکاتیں ہوتی ہیں۔عید اضحی کے دن میں بھی بعض حکمتیں ہیں ان میں سے بہت سی