خطبات محمود (جلد 2) — Page 58
ہوتا ہے مگر خدا تعالے کے لئے جو قربانی کیجاتی ہے اس کے متعلق وہ فیصلہ کرتا ہے کہ قبول کروں یا رد کروں پپس میہ در اصل قربانی نہیں بلکہ خدمت ہوتی ہے جو انسان اپنے ہی فائدہ اور نفع کے لئے کرتا ہے اور اس کو قربانی اس لحاظ سے کہا جاتا ہے کہ خدا تعالے نے اس کا نام قربانی رکھا ہے۔پس جس کسی کو دین کی خدمت کرنے کا کوئی موقع ملے اس کو اس پر کوئی گھمنڈ نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ اس کی خدمت کے متعلق تو ابھی یہ سوال درپیش ہوتا ہے کہ خدا کے حضور وہ قبول ہوئی بھی ہے یا نہیں۔وہ لوگ جنہوں نے دین کی کوئی خدمت کر کے یہ خیال کیا کہ ہم بھی کچھ کہ رہے ہیں اور کچھ کر سکتے ہیں وہ تباہی کے گڑھے کے کنارے نہیں بلکہ گڑھے میں گر گئے اور ہمیشہ کی تباہی میں مبتلا ہو گئے۔یہ آیات جوئیں نے پڑھی ہیں ان میں آدم کے دو بیٹوں کا ذکر ہے۔یہ کوئی خاص بیٹے نہیں۔کوئی ہوں۔ان دونوں نے خدمت یعنی قربانی کی جن میں سے ایک کی رو ہوگئی اور دوسرے کی قبول ہو گئی اور معزز و مکرم وہی ہوا جس کی قربانی خدا تعالے نے قبول کر لی۔بہت لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے قربانیاں کی ہیں اور اس یہ فخر کرتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ صرف قربانیاں کرنا قابل فخر بات نہیں ہے یوگی تو ہابیل بھی کہنا تھا کہ میں نے قربانی کی ہے لیکن کیا وہ اس کے لئے قابل فخر قربانی تھی۔ہر گز نہیں۔پس یہ کہنا کہ میں نے فلاں قربانی کی ہے کوئی عزت اور فخر کی بات نہیں ہے۔کیا آدم کا وہ بیٹا جس کی قربانی خدا تعالے نے قبول نہ کی۔معزز و مکرم ہوا یا ذلیل و خوار۔خدا تعالے کہنا ہے کہ وہ ذلیل ہی ہوا شد تو محض قربانیاں کرنا کوئی نفر اور عزت کی بات نہیں۔ہاں خدا تعالے کا کسی قربانی کو قبول کر لینا فخر اور عورت ہے۔اگر ایک شخص بہت بڑی قربانیاں کرتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کے مان قبول نہیں ہوتیں تو اس کے لئے کوئی فخر نہیں۔لیکن اگر کوئی شخص ایک پیسہ کی قربانی کرتا ہے اور خدا تعالے کے ہاں قبول ہو جاتی ہے تو یہی اس کے فخر کا باعث ہے تو اس عید پر اس لئے فخر نہیں ہونا چاہیئے کہ قربانی کرنے سے موت حاصل ہو جاتی ہے بلکہ سمجھنا چاہیئے کہ قربانی قبول ہونے سے عورت ملتی ہے چونکہ ہمارا سلسلہ اللہ تعالے کی جانب سے ہے اور اس میں داخل ہونے والوں کو بھی بڑی بڑی قربانیاں کرنے کی ضرورت ہے اس لئے ہماری جماعت کے لوگوں کو خوب اچھی طرح خیال رکھنا چاہئیے کہ کوئی قربانی کر دینے سے اس وقت تک برت حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کہ خدا تعالے قبول نہ کرلے۔ہاں جب خدا تعالے قبول کرلے تو اس وقت عزت حاصل ہوتی ہے اور جب خدا قبول کر لیتا ہے تو پھر بندہ اس پر فخر نہیں کرتا۔و۔ان آیات میں جو میں نے پڑھی ہیں خدا تعالے دو آدمیوں کا ذکرتا ہے کہ دو نے قربانی کی تھی ان میں سے ایک کی قبول ہو گئی اور دوسرے کی رو کردی گئی جس کی قبول ہوئی اس کا تو کوئی