خطبات محمود (جلد 2) — Page 35
خوش نہیں ہوگا۔خوش اسی وقت ہوگا جب کہ قصد پر بات والحریر عمل کیا جائے گا اور اپنے آپ کو خدا تعالے کے حضور گرا دیا جائے گا اور ہر ایک قربانی کی جائے گی لیکن اگر یہ نہیں تو پھر کچھے نہیں۔پس ہماری جماعت کے لوگوں کو چاہیے کہ اپنے فرائض سمجھیں اور ایک طرف اپنے اخلاق وعادات، اعمال و افعال تقونی و طهارت میں ترقی کو یا تی دوم می حرف به را یک قربانی کریں۔ہو سکتا ہے کہ ایک شخص دوسرے انسان کے احسان تھے مقابلہ میں گہرے کہ میں نے بہت قربانی کر دی ہے مگر اللہ تعالے کے کسی فضل اور انعام کے مقابلہ میں کوئی بڑی سے بڑی قربانی ایسی نہیں جو پیش کی جا سکے۔اس کے لئے تو اگر خدا کے لئے جان ومال، بیوی بچے ، عزیز و رشتہ دار بھی قتل کرا دینے پڑیں تو پھر بھی کچھے نہیں۔ایک شاعر تھا تو ہے دین مگر اس کا ایک شعر مجھے بہت پسند ہے کہتا ہے " تو جان دی۔دی ہوئی اُسی کی تھی ستی تو یہ ہے کہ حق ادا نہ تو دنیا میں ایک انسان کے مقابلہ میں انسان قربانی کر کے اس کا بدلہ اتار سکتا ہے۔مگر اللہ تعالئے اور اس کے خاص بندوں کے احسانات اور انعامات کہ وہ بھی خدا ہی کی طرف سے ہوتے ہیں ان کے مقابلہ میں کوئی انسانی قربانی ایسی نہیں جو کچھ حیثیت رکھتی ہو کیونکہ اس کے انعام اس قدر عظیم الشان ہوتے ہیں کہ جن کا شکریہ ادا ہی نہیں ہوتا۔اس لئے انسان جو بھی قربانی کرتے وہ کم اور تھوڑی ہے مگر کئی لوگ ایسے ہیں جو کچھ خدمت دین کر کے یا چندہ دے کو خوش ہو جاتے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ کر لیا ہے۔پھر اگر ان سے چندہ مانگا جائے تو اعتراض کرتے کچھ۔ہیں کہ ہر وقت چندہ ہی مانگا جاتا ہے، ہم پہلے جو دے چکے ہیں۔لیکن ان کو دیکھنا چاہیئے کہ اللہ تعالے کے احسانات کے مقابلہ میں کیا قربانی کی ہے۔وہ تو اگر اپنا سب کچھ بھی خدا کی راہ میں دے دیتے تو پھر بھی احسان ادا نہیں ہو سکتا۔کیونکہ جو کچھ انسان کے پاس ہوتا ہے ، وہ سب کچھ خدا تعالے کا ہی دیا ہوا ہوتا ہے اگر وہ سارا ہی لے نے تو انسان کیا کر سکتا ہے۔مگر یہ بھی اس کا احسان اور رسم ہے کہ اپنی راہ میں خرچ کرنے کے لئے کچھ ہی کتنا ہے اور باقی ہمارے پاس رہنے دیتا ہے تو اس قسم کے خیالات شیطانی خیالات ہوتے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالے کے محمد کے خلاف کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔مومن کو چاہیے کہ جس قدر بھی اس سے ہو سکے، قربانی کرے لیکن ہو سکنے کا فیصلہ اپنے دل سے نہیں کرنا چاہئے بلکہ یہ دیکھنا چاہیئے کہ اس وقت دین کو کسی قدرت بانی کی ضرورت ہے۔اور وہ اس سے کیسی قربانی کا مطالبہ کر رہا ہے کیونکہ خدا تعالے کی طرف سے کوئی دینی ضرورت ایسی نہیں پیدا کی جاتی کہ جس کے پورا کرنے کے لئے اس وقت کے لوگوں میں طاقت اور ہمت نہ ہو تے بلکہ ایسی ہی پیدا کی جاتی ہے جس کو لوگ or