خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 34

اور تمھیں مسیح موعود کی بعثت پر خوب خوشیاں کرنا چاہئیں اول تو ہر احسان اور انعام پر خوشی کا اظہار کرنا چاہئیے مگر یہ تو ایسا انعام ہے کہ جس کے متعلق خود خدا تعالئے خوشی کرنے کا ارشاد فرماتا ہے۔پھر سوچ لو کہ کس قدر خوستی کرنا چاہیئے۔پھر دوسرا استارہ اس آیت میں یہ ہے کہ اس زمانہ میں یہ ضروری ہوگا کہ دعائیں بہت کثرت کے ساتھ کی جائیں اور خوب قربانیاں کی جائیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اِنَّ شَانِسَك هو الان تو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد پھیل جائے گی اور آپ کے دشمنوں کی نسل منقطع ہو جائے گی اور وہ ابتر ہو جائیں گے ان کی روحانی اولاد باقی نہ بریگی کیونکہ سب جگہ مومن ہی مومن پھیل جائیں گے۔ہمیں اس آیت سے یہ فائدہ اور یوم عید سے یہ نتیجہ اخذ کرنا چاہئے کیونکہ یہ عید میں یاد دلاتی ہے کہ فصل لربک وال پر عمل کریں۔پس ہماری جماعت کا فرض ہے کہ خوب دعائیں کرے اور قربانیوں میں ہی رہے۔قربانیوں میں سب سے ضروری اپنے نفس کی قربانی ہے اس کے کرنے کی کوشش کرنا چاہیئے۔اور دوسری بھی ہر قسم کی قربانیوں سے دریچے نہ ہونا چاہیئے۔جب یہ ہو گا تو اس وقت ہماری کامیابی یقینی ہے کیونکہ اسی وقت ہمارا دشمن ابتر ہو گا اور اسکی نسل منقطع ہو جائیگی یہاں خدا تعالے نے نسل رب انکر کے بعد اِنَّ شَانِدُكَ عُر الابتر رکھا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالے کی عبادت اپنے نفس کی اصلاح کرنے اور قربانیاں دینے کے بعد دشمن ابتر ہوگا تو اللہ تعالے نے ہمارے دشمنوں کے ناکام ہونے کے ساتھ یہ شرط لگا دی ہے اس لئے تمہارا فرض ہے کہ اس حکم کے ماتحت اپنے نفس کی خاص اصلاح کریں اور قربانیاں دیں اپنے خیالات، اپنے اموال ، اپنی اولاد ، اپنے رشتہ دار اور اپنے نفس کی۔غرضیہ کہ جو قربانی بھی کرنی پڑے کریں۔کیونکہ خدا تعالے کہنا ہے کہ یہ قربانی کرنے کا زمانہ ہے۔پس یہ خیر نہیں اس طرف متوجہ کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ جس طرح اس دن تم بحروں وغیرہ کو ذبح کرتے اور ان کی گردنوں پر چھری رکھتے ہو۔اسی طرح اپنے مالوں اور جانوں کو قربان کرو تا کہ آنحضرت صلے شہد علیہ وسلم کی روحانی نسل بڑھے او۔آپ کے دشمن ابتر ہوں۔پس میں یہاں کی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں۔جو لوگ بیٹھے ہیں وہ سُن لیں اور باقیوں کو انشاء اللہ اخبار کے ذریعہ سے یہ باتیں پہنچ جائیں گی۔بہت لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے مسیح موعود کو مان لیا ہے اب ہمیں کچھ کرنے کی کیا ضرورت ہے، ان کو یاد رکھنا چاہیئے کہ اس طرح خدا تعالٰی