خطبات محمود (جلد 2) — Page 399
149 حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی رڈیا کا یہ مطلب تھا کہ آپ اپنی مرضی سے اور یہ جانتے ہو مجھتے ہوئے کہ دادی مکنہ ایک بے آب وگیاہ جنگل ہے اور وہاں کھانے پینے کو کچھ نہیں ملتا۔اپنی بیوی اور بچے کو وہاں چھوڑ آئیں۔چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا۔جب حضرت اسمعیل علیہ السلام بڑے ہوتے تو آپ نے اپنی نیکی اور تقوی کے ساتھ اپنے گرد لوگوں کا ایک گردہ جمع کر لیا۔اور انہیں نمانہ اور زکوۃ اور صدقہ و خیرات کی تحریک کر کے اور اسی طرح عمرہ اور حج کے طریق کو جاری کر کے آپ نے مکیہ کو آباد کرنا شروع کیا۔چنانچہ ان کی قربانیوں کے نتیجہ میں صدیوں سے مکہ آباد چلا آتا ہے قریبا تین ہزار سال سے برابر خانہ کعبہ آباد ہے اور اس کا طواف اور جج کیا جاتا ہے۔پس عید الا ضحیہ کی قربانی بے شک اس قربانی کی یاد دلاتی ہے، مگر اس قربانی کی یاد نہیں ولاتی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلامہ نے ظاہری شکل میں حضرت اسمعیل علیہ السلام کی گردن پر چھر کی پھیردی۔ر حقیقت قربانیوں کی عید ہمیں اس طرف توجہ دلاتی ہے کہ ہم خدا تعالے کی خاطر او راس کے بعد دین کے لئے جنگلوں میں جانیں اور وہ ہاں جا کر خدا تعالے کے نام کو بند کریں۔اور لوگوں سے اس کے رسول کا کلمہ پڑھوائیں جیسا کہ ہمارے صوفیاء کرام کرتے چلے آئے ہیں۔اگر ہم ایسا کریں تو یقینا ہماری قربانی حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کے مشابہ ہوگی۔ہم یہ تو نہیں کر سکتے۔کہ وہ قربانی با لکل حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کی طرح ہو جائے گی کیونکہ دلوں کی کیفیت مختلف ہوتی ہے۔حضرت اسمعیل علیہ السلام کے دل کی حالت اور تھی اور ہمارے زمانہ کے لوگوں کے دلوں کی حالت اور ہے مگر ہر حال وہ حضرت آمنجیل علیہ السلام کی قربانی کے مشابہ ضرور ہو جائیگی پس تم اپنے آپ کو اس قربانی کے لئے پیش کرو۔میرے نزدیک اس زمانہ میں حضرت سمعیل علیہ السلام کی قربانی کے مشابہ قربانی وہ مبلغ کر رہے ہیں جو مشرقی اور مغربی افریقہ میں تبلیغ کا کام کر رہے ہیں۔وہ غیر آباد ملک ہیں جن میں کوئی شخص خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا نام نہیں جانتا تھا لیکن ان لوگوں نے وہاں پہنچکر انہیں خدا تعالے اور اس کے رسول کا نام بتایا۔میں پہلے بھی ایک خطبہ میں بتا چکا ہوں کہ مغربی افریقہ کے ایک ملک میں عیسائیوں نے اپنے پریس میں احمدی اخبار کا چھاپنا بند کر دیا تو ہمارے مبلغ انچارج جماعت کا علیحدہ پریس لگانے کے سلسلہ میں چندہ اکٹھا کرنے سے نئے ایک جگہ گئے وہاں انہیں ایک ایسا آدمی ملا جسے انہوں نے بڑی تبلیغ کی تھی مگر اس نے احمدیت قبول نہیں کی تھی، بعد میں اس کے پاس ایک مقامی مبلغ پہنچا تو اس نے کہا کہ تمہارے بڑے پاکستانی مبلغ نے مجھے تبلیغ کی ہے لیکن اگر یہ دریا در وہ اس وقت ایک دریا کے کنارے جارہے تھے، اپنا رخ پھیر کر الٹی طرف چل پڑے تو یہ بات ممکن ہے لیکن میرا احمدیت کو قبول کرنا ناممکن ہے۔