خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 366

نبیاء سابقین میں سے کوئی نبی بھی ایسا نہیں جو ساری دنیا کی طرف بھیجا گیا ہو۔صرف رسوم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی ایک ایسے وجود ہیں جو ساری دنیا کی طرف مبعوث کئے گئے ہیں۔۔اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے ہیں کہ مجھے خدا تعالے نے ابیض و اسود اور احمر وصفر سب کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے اور مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں کوئی شخص ایسا نہیں جو میرے دائرہ ہدایت سے باہر ہوتی مگر اس کے باوجود جب اللہ تعالئے سب مسلمانوں کو ابراہیم علیہ السلام کی اتباع کا حکم دیتا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ان کی جسمانی نسل سے نہیں بلکہ ساری دنیا سے خطاب کرتا ہے۔اور روحانی لحاظ سے ساری دنیا کو ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں سے قرآ دیتا ہے اور نہ ابراہیم علیہ السلام صرف ایک قوم کی طرف آتے تھے۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ساری دنیا کی طرف مبعوث ہوئے تھے بلکہ ایک قوم بھی نہیں صرف ایک قبیلہ تھا جس کی طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام بھیجے گئے تھے۔بلکہ اگر ہم با ٹیبل کے بیان کو دیکھیں تو ایک قبیلہ بھی نہیں صرف ایک تھاندان تھا۔جس کی ہدایت کے لئے وہ مبعوث ہوئے۔پس یہ کہنا کہ وہ شخص صرف ایک خاندان کی طرف آیا تھا تم اس کے نقش قدم پر چلو بتاتا ہے کہ تم کو اس کا خاند قرار دیا جاتا ہے اور تم بھی آئندہ ابراہیمی نسل میں سے ہو۔غرض قرآن کریم نے ہمارے لئے ہمارے بزرگوں کی روایات کو زندہ دیکھا ہے اگر ہم ان روایات کو یا درکھیں تو ہمارے اخلاق اور ہماری ہمت اور ہمارے حوصلے کو بڑھانے میں یہ بات بہت کچھ مدد دے سکتی ہے یہ بات جو میں نے تمہارے سامنے بیان کی ہے یہ علم النفس کے لحاظ سے نہایت ہی اہم ہے اتنی اہم کہ انسان کے اخلاق اور اس کے کردار کو بالکل بدل دیتی ہے۔میں نے مہیں یہ نکتہ بتایا ہے کہ عید آتی ہے تو لوگ کہتے ہیں ابراہیم نے بڑی قربانی کی۔لوگ سمجھتے ہیں اسمعیل نے اپنی جان خدا تعالے کے لئے دیدی جس وقت لوگ کہتے ہیں کہ ابراہیم نے بڑی قربانی کی اور جس وقت لوگ کہتے ہیں کہ آجیل نے بڑی قربانی کی تو دوسرے الفاظ میں وہ یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ سامی نسل کے ایک انسان ابراہیم نے بڑی قربانی کی یا سامی نسل کے ایک انسان اسمعیل نے بڑی قربانی کی۔وہ اس سے یہ نتیجہ نکال رہے ہوتے ہیں کہ وہ بھی انسان تھے اور ہم بھی انسان ہیں۔اگر وہ ایسی قربانی کر سکتے تھے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے۔مگر جو بات ہیں نے بیان کی ہے اس کے نتیجہ میں جب ایک مسلمان یہ کہتا ہے کہ ابراہیم نے بڑی قربانی کی یا اسمعیل نے بڑی قربانی کی تو وہ یہ نہیں سمجھتا کہ ایک سامی نسل کے انسان ابراہیم نے بڑی قربانی کی یا ایاب سامی نسل کے انسان اسمعیل نے بڑی قربانی کی ملکہ وہ سمجھتا ہے کہ میرے دادا ابراہیمیہ نے یہ قربانی کی یا میرے دادا اسمعیل نے یہ قربانی کی۔اور تم سمجھ سکتے ہو کہ میرے باپ دادا کہنے اور سامی نسل کے