خطبات محمود (جلد 2) — Page 356
۳۵۶ میری عمر جوانی کی تھی۔بعض باتیں جائز ہوتی ہیں لیکن تجربہ کار آدمی منہ پر نہیں لانا۔میں نے جوانی کی وجہ سے اس کا خیال نہ کیا۔جب وہ شخص میرے پاس آیا تو میں نے اس سے دریافت کیا کہ اگر تمہارے پاس اخراجات سفر نہیں تھے تو پھر تم حج کے لئے کیوں آئے۔شریعیت کا یہ حکم ہے کہ اگر تمہارے پاس اخراجات سفر ہوں اور پھر اپنی غیر حاضری میں بال بچوں کے گزارہ کے لئے بھی تمہارے پاس روپیہ ہو تو حج کے لئے جاؤ اس لئے اگر تمہارے پاس اخراجات سفر نہیں تھے تو پھر تم حج کے لئے آئے کیوں ؟ پھر میں نے دریافت کیا کہ تم کام کیا کرتے ہو۔اس نے کہا ئیں نائی کا کام کیا کرتا ہوں میں جب حج کے لئے چلا تو میرے پاس کافی روپیہ تھا لیکن بعض مشکلات کی وجہ سے مزید روپیہ کی جضرورت محسوس ہوئی ہے۔میں نے جب دریافت کیا کہ تمہار ہے پاس کتنا روپیہ تھا تو اس نے کہا لیبی سے جب میں چلا تو میرے پاس پچاس روپے تھے گویا ان دنوں جب حج پر اڑھائی تین سو روپیہ خرچ ہوتا تھا پچاس روپے کی پونجی والا حج کے لئے چل پڑا۔راب بارہ تیرہ سو روپیہ کے قریب حج پر خرچ ہوتا ہے، اب کجا پچاس روپے اور کجا اڑھائی تین سو روپے۔میں نے کہا کہ جب تمہارے پاس اس قدر قلیل رستم تھی تو تم جج کے لئے کیوں چلے؟ تو اس نے کہا۔میں نے خیال کیا کہ اس قدر روپیہ میرے پاس ہے اور کچھ رستہ میں محنت کر لونگا۔چلو دربار محبوب کی زیارت تو کر آؤں لیکن اب واپس جانے کے لئے میرے پاس اخراجات نہیں۔لیکن دوسری طرف یہ حالی ہے کہ میں کے پاس ایک لاکھ روپیہ کی جائدا رہے وہ بھی حج کے لئے نہیں جاتا۔شاید اس لئے کہ جتنی زیادہ دولت کسی کے پاس آتی ہے اس کا ایمان کمزور ہوتا جاتا ہے۔ایک دفعہ ایک مالدار شخص حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا اے استاد مجھے بھی اپنی شاگردی میں لے لیجئے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے دیکھا کہ اس کے کپڑے اچھے ہیں آپ نے اس کے حالات دریافت کئے۔اس کے حالات سے معلوم ہوا کہ وہ ایک لاکھ پتی آدمی ہے حضرت مسیح علیہ السلام نے کہا۔سوٹی کے ناکہ میں سے اُونٹ کا گذر جانا ممکن ہے۔لیکن خدا تعالے کی بادشاہت میں ایک مالدار کا داخل ہونا ممکن نہیں ہے گویا اگر کوئی بیوقوف تم سے کہے کہ سوئی کے ناکے میں سے اونٹ گذر گیا۔تو تم اس پہ اعتبار کر لو لیکن اگر کوئی کہے کہ فلاں مالدار شخص خدا تعالے کی بادشاہت میں داخل ہو گیا ہے تو اس پر اعتبار نہ کہ در حضرت مسیح علیہ السلام نے اس شخص سے کہا جاؤ تمہیں خدا تعالے کی بادشاہت میں داخل کرنا میرے بس کی بات نہیں۔پس جن لوگوں کی حیثیت ہوتی ہے وہ تو جج کے لئے نہیں جاتے اور جن کی حیثیت کچھ نہیں ہوتی وہ حج کے لئے جاتے ہیں اور بارہ تیرہ ہزار آدمی جو پاکستان سے حج کے لئے جاتا ہے اس میں سے در حقیقت پانچو یا ہزارہ آدمی ایسا ہوتا ہے جس پر حج فرض ہوتا ہے۔پس وہ اندازہ جو میں نے لگایا ہے وہ بھی