خطبات محمود (جلد 2) — Page 339
۳۲۹ نہ کرنے کی وجہ سے ایک بیکار قسم کی گرمی اور سوزش پیدا ہو گئی ہے یعنی محض باتیں کرنے ، بڑے بڑے دعوے کرنے بلاوجہ فخر کرنے اور یہ کہنے کی کہ ہم یوں کر دیں گے ہم دُوں کر دیں گے کی عادت پیدا ہو گئی ہے۔جس کے نتیجہ میں بعض روحانی امراض مثلاً مطبعہ کا آنا۔سوزش گلو کھانسی اور نزلہ پیدا ہو گئی ہیں۔خواب میں یہ نظارہ دیکھا کو خدا تعالیٰ اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ یہ عادت دور ہونی چاہیئے اور عمل کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہیئے۔میری طبیعت پر یہی اثر ہوتا رہتا ہے اور اس نظارہ کے دیکھنے کے بعد وہ اثر زیادہ نمایاں ہو گیا ہے کہ جماعت میں بولنے کی عادت زیادہ ہو گئی ہے اور عمل کی طرف توجہ بہت کم ہے۔دو سال سے میں دیکھ رہا ہوں کہ احراری جماعت کے خلاف شرارتیں کر رہے ہیں۔کہیں احمدیوں کو مارا جارہا ہے، کہیں سے انہیں نکالا جا رہا ہے۔کہیں ان کا منہ کالا کیا جا رہا ہے، کہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اور مجھے گالیاں دی جاتی ہیں۔کہیں مکانوں پر نشان لگاتے جاتے ہیں کہ کسی رات اچانک حملہ کر کے تمام احمدیوں کو ختم کر دیا جائے۔لیکن ہماری جماعت حرف ارینه ولیوشن لکھ کر الفضل کو بھیج دیتی ہے۔اور افضل بھی اسے جماعت احمد یہ میں غم دفتہ کی سر کے عنوان سے شائع کر دیتا ہے۔حالانکہ میں نے تو یہ غم وغصہ کی لہر جماعت میں کبھی نہیں دیکھی اور یوں بھی مجھے کبھی محسوس نہیں ہوا، کہ میں کوئی نئی سکیم سوچوں۔کیونکہ جب تک جماعت میں کام کا استان پیدا نہ ہو اور جماعت سنجیدگی سے قربانی کرنے کے لئے تیار نہ ہو اس کے لئے کوئی نئی سکیم سوچنے کا کیا فائدہ ؟ جب احرار کا فتنہ ستہ میں شروع ہوا، ایک دفعہ میں لاہور کا سفر کر رہا تھا، ایک جوشیلا نوجوان میرے ساتھ آیا۔اس نے مجھے کہا وہ اب ہمیں گاندھی جی کی طرح کرنا چاہیئے۔میں نے کہا۔گاندھی تو فورا مطلب کی بات دیکھ کر صلح کر لیتا ہے۔کیا تم اپنے امام سے بھی یہی امید رکھتے ہو کہ کہیں ہمالیہ کی غلطی ہوئی کہیں بند ھیا چل کی غلطی ہوئی ، کہ نہیں گنگا اور تمنا کی غلطی ہوئی اور پھر صلح کر لی۔اگر اپنے امام کے لئے تم یہ اخلاق پسند کرتے ہو تو پھر تمہارا مشورہ بجا ہے۔یا پھر یہ ہو کہ امام جنگ کے لئے گئے تو تمام جماعت تیار ہو جائے۔پھر جنگ میں فتح ہو یا سب لوگ مارے جائیں۔میں نے کہا، بتاؤ کیا ہے بہت ؟ اگر یہ ہو جائے کہ سارے مر جاؤ اور یا فتح حاصل کرو یہ تب تو متها را مشورہ مفید ہوسکتا ہے۔ورنہ دوسروں میں سے اگر۔4 فیصدی لوگ بھی بھاگ جائیں تو ان کی عزت اور درجہ میں فرق نہیں آتا لیکن ہماری جماعت کے دس فیصدی لوگ بھی بھاگ جائیں تو اس کی عزت اور در جرائم نہیں رہتا۔جب تک یہ نہ ہو کہ مسلمان۔۔ا کے اکھڑے ہو جائیں اور پھر اگر ان کی تقدیر میں شکست لکھی ہے تو میدان سے ان کی۔۔ا کی۔۔نعشیں برآمد ہوں، اس وقت تک ہم اپنے آپ کو کامیاب خیال نہیں کر سکتے۔اگر ظاہری طور پر شکست ہو جائے اور 100