خطبات محمود (جلد 2) — Page 309
٣٠٩ اور غائب غلہ کو نظر انداز کر دیتا ہے۔بے شک بعض جگہیں ایسی بھی ہوتی ہیں جہاں حاضر چیزی غائب چیزوں سے زیادہ اہم ہوتی ہیں لیکن ایسے بھی مواقع ہوتے ہیں جہاں غائب چیز حاضر چیز سے زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ایک شخص جھوٹ بول کر اپنی جان بچا لیتا ہے۔جھوٹ بول کر اپنی جان بچا لینا ایک حاضر فائدہ ہے۔اور سچ بولکر اللہ تعالے کی رضا کا حاصل ہونا ایک غائب فائدہ ہے مگر کون کہ سکتا ہے کہ یہ حاضر چیز نمائی سے زیادہ بہتر ہے یا ایک چور چوری کر کے اپنے لئے روٹی کا سامان مہیا کرتا ہے۔اب اس کا دیانت پر عمل کر کے اس دنیا کی آئندہ زندگی یا اگلے جہاں کی زندگی میں فائدہ حاصل کرنا ایک غائب چیز ہے اور روٹی کا مل جانا ایک حاضر چیز ہے مگر کوئی نہیں کہتا کہ یہ حاضر چیز نائب چیز سے اچھی ہے تو بعض چیزیں غائب ہوتی ہیں مگر وہ حاضر کی نبوت اچھی ہوتی ہیں۔اور اپنی چیزوں میں سے ایک اولاد کی قربانی ہے جس کا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہمیں نمونہ دیکھایا۔آپ کا اپنی اولا کو وادی غیر ذی زرع میں رکھنا اور عملی طور پر چھری لے کر اپنے بچے کو قربان کرنے کے لئے کھڑے ہو جانا یہ دوباتیں تھیں جو حضرت ابراہیم علیہ سلام نے کیں۔خدا تعالے کا غشاء یہی تھا کہ وہ وادی غیر ذی زرع میں جا کر اپنے بچے کو چھوڑ آئیں اور خدا تعالے کے ذکر اور اس کے کلمہ کے اعلاء کے لئے اسے وقف کر دیں۔مگر اللہ تعالے نے انہیں نظارہ یہ دکھایا کہ وہ اپنے بیٹے کو قربان کر رہے ہیں۔اللہ تعالے جانتا تھا۔کہ اگر خواب میں میں نے ابر اسیم کو یہ نظارہ دکھایا کہ وہ اپنے بیٹے کو قربان کر رہا ہے تو وہ واقعہ میں اپنے بیٹے کو ظاہری رنگ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔اور چونکہ اللہ تعالئے ابراہیم کے ذریعہ آئندہ انسانی جان کی قربانی کو ہمیشہ کے لئے ممنوع قرار دینا چاہتا تھا اس لئے اس نے بجائے یہ کہنے کے کہ اسے ابا ہمیں جا اور اپنے بچے کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑ آہ یہ نظارہ دکھایا کہ وہ اپنے بچے کو قربان کر رہے ہیں۔تاکہ جب وہ اپنے بچے کو قربان کرنے لگیں انہیں روک کر ہمیشہ کے لئے انسانی قربانی کو ممنوعہ قرار دے دیا جائے۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ویسے ہی کیا۔انہوں نے چھری پکڑی اور اپنے بچے کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔جب وہ اس فعل پر کلی طور پر تیار ہو گئے تو خدا تعالیٰ نے انہیں روک دیا اور فرمایا آئندہ خدائی سلسلوں میں انسان کی قربانی قبول نہیں کی جائے گی ، تم اس کی بجائے بکرا ذبح کر دوں یہ اس طرح انسانی قربانی بھی بند ہوگئی ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتحان بھی ہوگیا اور حضرت سعیل علیہ اسلام کو ایک دادی غیر ذی زرع میں چھوڑنے کے نتیجہ میں ان کا رویا بھی پورا ہو گیا پھر حال اللہ تعالے نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کی یادگار میں کہ وہ اپنے بیٹے کو خدا تعالیٰ