خطبات محمود (جلد 2) — Page 300
اس کا باپ اسے ہمیشہ نصیحت کرتا کہ یہ خوشامدی اور خود غرض نوجوان ہیں انہیں تم سے تقیقی محبت نہیں۔تم ان پر اپنا روپیہ یہ بادست که در مگر وہ اپنے باپ کی نصیحت کو کبھی تسلیم نہ کرتا اور یہی جواب دیا کہ یہ میرے بچے دوست ہیں۔باپ نے کہا تمہیں اتنے دوست کہاں سے مل گئے مجھے تو ساری عمر میں صرف ایک دوست ملا ہے۔اور تمہاری یہ حالت ہے کہ تمہارے ارد گردبر وقت دوستوں کا ہجوم رہتا ہے۔جب بہت عرصہ گزر گیا اور باپ کی نصیحت اس نے تسلیم نہ کی۔تو ایک دن باپ نے اسے کہا اگر تمھیں میری بات پر اعتبار نہیں تو تجربہ کر لو۔اور اپنے دوستوں کا امتحان لے لو۔پھر تمہیں خود بخود پتہ لگ جائے گا۔کہ تمہارے کتنے حقیقی دوست ہیں اس نے کہا۔میں اپنے دوستوں کا کس طرح امتحان لوں۔باپ نے کہا کہ تم ہر دوست کے مکان پر جاؤ اور اسے کہو کہ میرے باپ نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے اور جائداد سے مجھے بے دخل کر دیا ہے مجھے اس وقت کچھ روپیہ دیا جائے تاکہ میں روزگار کا انتظام کر سکوں۔جب وہ اپنے دوستوں کے مکانوں پر گیا اور انہیں معلوم ہوا کہ اسے باپ نے گھر سے نکال دیا ہے تو کسی نے اندر سے کہلا بھیجا۔کہ میں بیمار ہوں افسوس ہے کہ اس وقت مل نہیں سکتار کسی نے خادم کے ذریعہ کہلوا دیا کہ وہ گھر پر نہیں ہیں کسی نے معذرت کا اظہار کر دیا اور کہدیا کہ روپیہ تو تھا۔مگر آج ہی خلال کو دیدیا گیا ہے۔اسی طرح وہ خالی ہاتھ اپنے باپ کے پاس واپس پہنچا۔اور اسے کہا کہ آپ کی بات درست ثابت ہوئی ، میری تو کسی شخص نے مدد نہیں کی۔باپ نے کہا۔اب آؤ میں تمہیں اپنا دوست بتاتا ہوں۔یہ کہ کر وہ اسے اپنے ساتھ شہر سے باہر جنگل کی طرف لے گیا اور ایک مکان کے پاس پہنچ کر اس نے آواز دی۔جس طرح اس زمانہ میں ریل پر پہرہ ہوتا ہے اس طرح کرانے زمانے میں سڑکوں پر پہرہ ہوا کرتا تھا۔اور وہ شخص بھی اپنی پہرہ داروں میں ملازم تھا۔اس نے زنجیر کھٹکھٹائی تو اندر سے آواز آئی کہ کون ہے اس نے اپنا نام لیا کہ فلاں شخص ہوں۔اس نے کہا بہت اچھا مگر اتنا کہنے کے بعد خاموشی طاری ہو گئی اور آدھ گھنٹے تک اندر سے کوئی جواب نہ آیا۔بیٹا کہنے لگا۔آپ کا دوست بھی میرے دوستوں جیسا ہی ثابت ہوا ہے۔باپ نے کیا گھبراؤ نہیں ابھی پتہ لگ جاتا ہے کہ اس نے نکلتے ہیں کیوں دیر لگاتی ہے۔پانچ دس منٹ اور گزرنے کے بعد وہ شخص باہر نکلا۔اس نے ایک ہاتھ میں اپنی ہوئی کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔اس کی کمر میں بیانی بندھی ہوئی تھی اور اس کے دوسرے ہاتھ میں تلوار تھی۔اس نے باہر نکل کر کہا۔میرے دوست معاف کرنا۔مجھے دیر اس لئے ہو گئی کہ آج آپ دھی رات کے وقت تشریف لائے ہیں۔جب آپ نے دروازہ کھٹکھٹایا تو میرے دل میں خیال آیا کہ آدھی رات کے وقت آپ کا میرے پاس آنا ضرور اپنے اندر کوئی غرض رکھتا ہے۔چنانچہ