خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 282

۳۴ قادیان ۸ار نومبر ۱۹۳۵ء - عیدالاضحی کی تقریب ۱۶ار نومبر کو منائی گئی۔حضرت امیرالمومنین خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کی طبیعت کئی روز قبل سے علیل خیلی آرہی تھی۔حرارت کے علاوہ درد نقرس کی شدید تکلیف تھی۔مگر اس حالت میں ایک طرف تو ہر خور دو کلاں کی یہ خواہش تھی کہ حضور کی اس مبارک تقریب پر زیارت کرے اور حضور کے ارشادات سے مستفیض ہو اور دوسری طرف ڈاکٹر صاحبان کی یہ رائے تھی کہ حضور کے عید گاہ تک سواری پر تشریف لے جانے سے بھی تکلیف میں کم از کم ۲۵ فیصدی اضافہ ہو جانے کا اندیشہ ہے۔مگر باوجود اس کے حضور نے اپنی تکلیف کے مقابلہ میں خدام کی دلجوئی کو مقدم کرتے ہوئے عید گاہ میں تشریعیت لے جانے کا ارادہ فرمایا اور کہلا بھیجا کہ نماز مفتی محمد صادق صاحب پڑھا دیں اور عید کا خطبہ بھی وہی پڑھیں گے۔اس کے بعد میں کچھ کلمات کہوں گا۔لیکن حضور کے تشریف لے جانے کی تیاری ہی کی جا رہی بھتی کہ مطلع پر جو پہلے معمولی سا ابر آلود تھا اور بارش کے کوئی آثار نہ تھے۔تھوڑی ہی دیر میں بادل گھر آئے۔اور بارش ہونے لگی۔اس پر اعلان کرنا پڑا کہ نماز عید گاہ کی سجائے مسجد اقصے میں ہوگی۔چنانچہ بہت سے لوگ مسجد میں پہنچ گئے جہاں حضرت امیر المؤمنین خلیفہ ایسیح الثانی ایدہ اللہ تعالے کرسی پر بیٹھیک تشریف لائے ہوئے تھے۔حضور کے ارشاد کے مطابق نماز حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے پڑھائی اور خطبہ بھی مختصر طور پر پڑھا۔اس کے بعد حضور نے آرام کرسی پر بیٹھیکہ درود شریف کے کلمات کی تشریح میں نہایت ہی لطیف تقریر فرمائی۔اور جماعت کو نہایت نبی مؤثر الفاظ میں تبلیغ احمدیت کی طرف توجہ دلائی اور پھر دیا کرنے کے بعد گھر تشریف لے گئے۔الفضل وار نومبر ۶۱۹۳۵ ۱۹۴۵ء مت)