خطبات محمود (جلد 2) — Page 279
٢٤٩ خدا تعالے کے لئے اُسے ذبح کر دے۔اس وقت آسمان اور زمین کے خدا نے تمام کائنات کے پیدا کر نے والے خدا نے عرش سے آواز دی کہ اسے ابراہیم تو نے اپنے رویا کو سچا کر دکھایا اور اپنی نسل کو قطع کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔مگر میں تیری اولاد کو کبھی ختم نہ ہونے دونگا، تیری نسل کو بھی تقطع نہ ہونے دوں گا۔بلکہ اسے بڑھاؤں گا یہاں تک کہ جس طرح آسمان کے ستارے نہیں گئے جا سکتے تیری نسل بھی نہ گنی جاسکے گئی ہے اب دیکھو آج سے چار ہزار سال قبل فلسطین کے ایک سنسان جنگل میں دنیوی لحاظ سے ایک نہایت ہی کمزور شخص کو اللہ تعالے کی طرف سے یہ آوازہ آئی تھی اور آج دنیا کی بہترین مہذب قوم کے سردار ، دنیا کی بہترین طاقت رکھنے والی قوم کے سردار، دنیا کی بہترین سائنٹیفک قوم کے سردار نے چند سال قبل یہ فیصلہ کیا کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل کو تباہ کر دے گا تے اور سات سال قبل دنیا نے یہ اندازہ بھی کر لیا۔کہ یہودی قوم اب مٹ جائے گی مگر با وجود اس کے کہ سیودی قوم اپنے مذہب کو چھوڑ چکی ہے۔چونکہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جسمانی اولاد سے ہے ، اس لئے چار ہزار سال قبل اللہ تعالے نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جو وعدہ کیا تھا کہ میں تیری نسل کو کبھی قطع نہ ہونے دوں گا، اس نے اس کے حق میں اسے پورا کر دکھایا۔جرمن قوم کے سردار ہٹلر نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ یہودی قوم کو بلاک کر دیا ، اسے تباہ کر دے گا۔اور بظاہر یہ نظر بھی آتا تھا کہ وہ ایسا کر دے گا، مگر نوش پر سے خدا تعالے کہہ رہا تھا کہ میں اسے ناکام کر دوں گا۔بے شک آج یہودی قوم بے حقیقت ہے اور اسے کوئی طاقت حاصل نہیں اور بے شک دنیا کا سب سے زیادہ اخت دار والا سیاسی لیڈر اس سے ٹکرایا۔ایسا زبر دست لیڈر کہ جس کے سامنے برطانیہ جیسی عظیم الشان سلطنت کے وزیر اعظم مسٹر چیمبر لین بھی سر چھب کا آئے تھے لیکن آخر وہ وعدہ پورا ہوا جو آج سے قریباًا چار ہزار سال قبل فلسطین کے ایک جنگل میں اللہ تعالے نے اپنے بندے سے کیا تھا اور خدا تعالے کی عجیب قدرت ہے کہ آج چھ سال کے بعد دنیا یہ بحث کر رہی ہے کہ مہلو زندہ ہے یا مر چکا ہے۔وہ جرمنی میں ہے یا کہیں بھاگ گیا ہے۔وہ پاگل ہو گیا ہے یا تندرست ہے۔اب دیکھ لو خدا تعالے نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اسے کس طرح پورا کیا۔یہود نے خدا تعالے کو بھلا دیا مگر خدا تعالے نے یہود کو نہیں بھلایا۔انسان بے وفا ہو سکتا ہے مگر خدا تعالے بے وفا نہیں ہو سکتا۔جب مٹلر یہ کہہ رہا تھا کہ میں یہود کو مٹا دوں گا خدا تعالے اپنے عرش سے یہ کہہ رہا تھا کہ چار ہزار سال ہوئے ہم نے دنیوی شان و شوکت کے لحاظ سے ایک معمولی حیثیت کے انسان سے فلسطین کے جنگل میں یہ وعدہ کیا تھا کہ ہم اس کی