خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 280

۔نسل کو قطع نہ ہونے دیں گے۔اور ہم زندہ خدا ہیں۔ہمارا وعدہ ضرور پورا ہو کر رہے گا اور یکم ابراہیم کے سامنے شرمندہ نہ ہوں گے۔چنانچہ دیکھ لو خدا تعالنے کا وعدہ پورا ہوا۔یہ ایک ایسا نہ منہ نشان دنیا کے سامنے ہے۔ایسا زندہ معجزہ دنیا کے سامنے ہے کہ جس کا انکار کوئی بڑے سے بڑا دہر یہ بھی نہیں کرسکتا۔اس معجزہ سے فائدہ اٹھانے والا آج دنیا میں سوائے ہماری جماعت کے اور کوئی نہیں۔ہماری جماعت کے بانی علیہ السلام کو بھی اللہ تعالے نے ابراہیم فرمایا ہے۔اور یہ معجزہ دکھا کہ اللہ تعالے نے ہماری جماعت کو بتایا ہے کہ میرے وعدوں کے بارہ میں تمہیں کوئی شک نہ ہونا چاہیئے۔اور جو اس بارہ میں کسی شک میں ہو، وہ دیکھے کہ ابراہیم اول کے ساتھ چار ہزار سال قبل میں نے جو وعدہ کیا تھا وہ کس طرح پورا ہوا ہے۔اور جب میں اتنے پر اپنے وعدوں کو نہیں پھیلاتا تو اپنے تازہ وعدوں کو کس طرح تھیلاسکتا ہوں۔اور یہ معجزہ دیکھا کہ اللہ تعالے ہمیں بتاتا ہے کہ جس طرح ابراہیم کی نسل کو دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت اور قوت اور کوئی بڑے سے بڑا بادشاہ نہیں مٹا سکتا۔اسی طرح اسے جماعت احمدیہ ! تمہیں بھی کوئی طاقت اور کوئی قوت تباہ نہیں سکتی ہاں نبود ابراہیم اول کی جسمانی اولاد ہیں اور جسمانی تعلق میں دین کی شرط نہیں ہوتی میگر تم ابراهیم ثانی کی روحانی نسل ہو اور روحانی نسل کے لئے دین کی شرط نہایت ضروری ہے پس تمہیں کوئی قوت اور طاقت مٹا نہیں سکتی بشر طیکہ تم اس روحانی تعلق کو مضبوطہ رکھو جو تم نے ابراہیم ثانی کے ساتھ قائم کیا ہے۔خدا توانے نے یہود کو مٹنے نہیں دیا کیونکہ ابر آسم اول سے ان کا جسمانی تعلق قائم ہے اور ہم ابراہیم ثانی کی روحانی نسل سے ہیں اور جب تک یہ روحانی تعلق قائم ہے۔ہمیں کوئی نہیں مٹا سکتا۔یہ روحانی تعلق قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے آپ کو حضرت سمعیل علیہ السلام کا مثیل ثابت کرے۔اور اپنی جان کو دین کی خدمت کے لئے ایک حقیر تحفہ کے طور پر پیش کر دے اور اسے ایک بے حقیقت قربانی قرار دے۔پس جب تک ہماری جماعت کے دوست دین کے لئے اپنی قربانیاں پیشیں کرتے رہیں گے جب تک وہ اسلام کی شمع پر پروانہ وار فدا ہونے کے لئے آگے بڑھتے رہیں گے دنیا کی کوئی قوت اور کوئی طاقت بلکہ جیسا کہ میں کئی بار کہ چکا ہوں دنیا کی تمام طاقتیں اور تمام قوتیں اور تمام بادشاہتیں مل کر بھی ہم کو مٹانہ سکیں تھی۔اللہ تعا نے نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو ابراہیم قرار دیا ہے اور تم اس ابراہیم کے روحانی فرزند ہو اس لئے تم وہ کونے کا پتھر ہو کہ جس پر تم کرو گے وہ بھی چکنا چور ہو جائے گا اور جو تم پر گرے گا وہ بھی چکنا چور ہو جائیگا دنیا