خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 248

۲۴۸ کی قوت قدسیہ سے آپ کی روحانی اولاد میں ہزاروں ابراہیم پیدا ہوئے۔میں نے ایک دفعہ رویا دیکھا کہ میں بہت الدعائیں بیٹھا ہوں کہ ایک فرشتہ میرے سامنے آیا۔اور اس نے کہا میں تم کو ابراہیم بتاؤں میں نے کہا ئیں ابراہیم کو جانتا ہوں۔وہ کہنے لگا ایک ابراہیم نہیں کئی ابراہیم ہوتے ہیں۔چنانچہ اس کے بعد اس نے کئی ابراہیم مجھے بتانے شروع کئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت اس نے کہا کہ وہ بھی ابراہیم تھے۔پھر اس نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے متعلق کہا کہ وہ بھی ابراہیم تھے اور آپ کا نام اس نے ابراہیم ادھم بنایا۔اسی طرح اور بیسیوں ابراہیم اس نے مجھ پر ظاہر کئے تو رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہی نہ تھے بلکہ روحانی طور پر آپ ابراہیموں کے باپ بھی تھے۔اور آپ کی روحانی اولاد میں سے ہزاروں ابراہیم ہوئے۔مجھے ہی فرشتہ نے بیسیوں کے قریب ابراہیم بنا دیتے تھے اور امت محمدیہ میں تو آجتک ہزاروں ابراہیم گذرے ہوں گے تو رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسلام ابراہیمیوں کا باپ بھی قرار دیتا ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالے کے لئے اپنی اولادوں، اپنی جائدادوں ، اپنے مالوں اور اپنی جانوں کو اس رنگ میں قربان کیا کہ ان میں اور ابراہیم میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک دفعہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے ان کے لڑکے عبدالرحمن بھی موجود تھے یہ بعد میں مسلمان ہوئے ہیں پہلے کچھ مدت تک مسلمانوں کا مقابلہ کرتے رہے تھے اور بدر یا اُحد کی جنگ میں کفار کی طرف سے لڑے تھے۔دورانِ گفت گو وہ حضرت ابوبیہ رضی اللہ تعالئے منہ سے کہنے لگے۔ابا جان ! اس جنگ میں جب فلاں جگہ سے آپ گزرے تھے تو میں ایک پتھر کے پیچھے چھپ کر کھڑا تھا۔اور میں اگر چاہتا تو آپ کو مار دیا کیونکہ اس وقت میری تلوار آپ تک پہنچ سکتی تھی مگر میں نے اپنے ہاتھ کو روک لیا۔اور کہا اپنے باپ کو کیوں ماروں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا۔خدا کی قسم اگر میری نظر تھے پر پڑھاتی تو میں تجھے ضرور مار ڈالتا۔میں ابراہیمی مقام ہے ابر اسی کو بھی خدا نے کہا۔قربانی کہ اور وہ قربانی کے لئے تیار ہو گیا۔اور یہاں بھی خدا تعالیٰ نے مسلمانوں سے کہا۔اگر تمہیں اپنے ماں باپ اپنے بیٹے۔اپنے رشتہ دار اپنے مکان اور اپنے اموال خدا اور اس کے رسول سے زیادہ پیارے ہیں تو تمہیں میری طرف سے کوئی انعام نہیں مل سکتا بلکہ تم پر میرا عذاب نازل ہوگا، ان لوگوں نے خدا تعالے کی اس آواز کوشنا۔اور پھر جیسا کہ خدا نے ان سے مطالبہ کیا تھا۔انہوں نے اپنے ماں باپ کو قربان کر دیا۔انہوں نے اپنے بیٹوں کو قربان کر دیا۔انہوں نے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو قربان کر دیا۔