خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 213

۲۱۳ س کی نقل میں رونی شکل بنا کر چیخنا شروع کر دیا۔اور انہوں نے سمجھا کہ شاید بادشاہ یا اس کی بیگم مر گئی ہے۔مگر ہر حال ان کا رونا مصنوعی رونا تھا اور اس چوڑی کا رونا حقیقی رونا تھا۔کیونکہ سورنی کا بچہ چو بیری کا اپنا تھا اور اس کے مرنے پر اس نے حقیقی درد محسوس کیا۔مگر دربان اور درباری گو بادشاہ یا اس کی ملکہ یا کسی شہزادہ کو رو رہے تھے مگر ان کا رونا مصنوعی تھا کیونکہ بادشاہ یا مکہ سے ان کا حقیقی تعلق نہ تھا۔تو اپنی قلیل سے قلیل تکلیف بھی بڑی معلوم ہوتی ہے اور دوسرے کی بڑی سے بڑی تکلیف بھی چھوٹی معلوم ہوتی ہے۔ہمارے یہاں کی ایک مثال ہے۔غالبا اب بھی وہ دوست یہاں بیٹھے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وہ پرانے صحابی ہیں۔ایک دفعہ یہاں کسی قسم کا جھگڑا ہو گیا اور احمدیوں نے شکایت کی کہ بعض ہندوؤں نے ان پر آوازے کسے ہیں اور فساد کرانا چاہا ہے۔میں نے اس کی تحقیق کرانی چاہی کہ آیا واقعہ میں ایدھا ہوا ہے یا نہیں تا اگر یہ بات درست ثابت ہو تو ان ہندوؤں کو سمجھا دیا جائے یا اپنے دوستوں کو سمجھایا جائے۔اس وقت تک بھی سہندوؤں سے ہمارے تعلقات اچھے تھے۔اور میری غرض اس تحقیق سے یہ تھی کہ جس کا قصور ثابت ہوا اسے سمجھایا جائے۔چونکہ کسی دوست سے معلوم ہوا کہ وہ اس موقعہ پر موجود تھے اور وہ واقعہ کے عینی گواہ ہیں۔میں نے انہیں بلایا اور کہا کہ اس قسم کا واقعہ کیا آپ کے سامنے ہوا ہے۔انہوں نے سمجھا شاید میں اس واقعہ کو سنکر بہت گھبرا گیا ہوں اور ہندوؤں کے دو تین نعروں نے مجھے پریشان کر دیا ہے۔چنانچہ وہ کہنے لگے ، ان باتوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے ہمارے ساتھ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے زمانہ میں اس سے بڑے بڑے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔لیکس نے ان کی یہ بات سُن کر ان سے پوچھا کہ سنائیے کیا کیا واقعات آپ سے گزرے ہیں۔اس پر انہوں نے مرزا نظام الدین صاحب کا جو ہمارے چچا تھے ایک واقعہ بیان کیا۔مرزا نظام الدین صاحب چونکہ سلسلہ کے مخالف تھے اس لئے وہ اپنے جدی حقوق کی حفاظت کے خیال سے احمدیوں سے بعض دفعہ معمولی معمولی باتوں پر لڑ جھگڑا لیتے تھے۔مثلاً یہی کہ فلاں جگہ سے مٹی نہیں لینے دینی ، فلاں جگہ چار پائیاں نہیں سمجھانے دینی- خیر تو ان دوست نے یہ واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ ہم کسی احمدی کے مکان کے لئے یا سلسلہ کے کسی مکان کے لئے تالاب سے مٹی کھود رہے تھے۔گدھے کھڑے تھے اور ان پر مٹی لادی جا رہی تھی کہ ہم نے دیکھا مرزا نظام الدین صاحب چلے آرہے ہیں اور انہوں نے آتے ہی غصہ سے کہا کہ کون ہے جو بیاں سے مٹی اٹھارہا ہے۔بس ان کا یہ کہنا تھا کہ باقی تو سب بھاگ گئے مگر میں کھڑا رہا اور میں نے اپنا نام لے کر کہا کہ اسے فلان شخصی آج تیرے ایمان کی آزمائش کا وقت آگیا۔چنانچہ میں ایک توار