خطبات محمود (جلد 2) — Page 191
ہو جاتا ہے، جس طرح برف کو ہاتھ میں پکڑنے والا ٹھنڈک محسوس کرتا ہے ، اسی طرح حضرت ابراہیم کے پاس بیٹھنے والے بھی قربانی کے خیالات سے لبریز ہو جاتے تھے۔چنانچہ اس کا ثبوت احادیث سے ملتا ہے۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اس پیشگوئی کو دوسرے معنوں میں پویا کرنے کے لئے کیونکہ چھری سے حضرت اسمعیل کو ذبح کرنے کی ممانعت کر کے خدا تعالٰے نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بتا دیا تھا کہ اس حکم سے ہمارا منشاء اور ہے اور وہ اسمعیل اور اس کی والدہ کو وادی بے آب و گیاہ میں چھوڑنا ہے۔جب خدا تعالے نے آپ پر یہ کشف حقیقت کردی اور آپ پیشگوئی کے حقیقی مفہوم کو پورا کرنے کے لئے حضرت اسمعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کو لے کر مکہ کے میدان میں پہنچے تو میل با میل تک نہ کوئی ٹھکانا تھا نہ رہنے کی جگہ۔نہ پانی تھا نہ کھانے کا سامان - حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے ایک مشکیزہ پانی کا اور ایک محوروں کی تفصیلی ان کے پاس رکھ دی جن کے ختم ہونے کے بعد نہ انہیں پانی میسر آسکتا تھا نہ غذا اور رکھ کر واپس لوٹے جس وقت وہ لوٹ رہے تھے حضرت ہاجرہ نے ان کی شکل دیکھ کر محسوس کر لیا کہ یہ جدائی عارضی جدائی نہیں بلکہ مستقل جدائی ہے وہ ان کے پیچھے آئیں اور کہا۔ابد استیم کہاں جا رہے ہو۔اس وقت بوجہ اس جذ بہ طبعی کے جو اُن کے قلب میں تھا اور اوالا منیب ہونے کی وجہ سے ان پر رقت طاری ہو گئی اور وہ جواب نہ دے سکے۔حضرت ہاجرہ پھر آگے بڑھیں اور امنوں نے سوال کیا۔مجھے اور اسمعیل کو چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو۔وہ پھر خاموش رہے جیب حضرت ہاجرہ کے متواتر ایج سے سوال کرنے کے باوجود وہ کوئی جواب نہ دے سکے تو پھر حضر ہاجرہ نے پوچھا کیا خدا نے آپ کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔اس وقت بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام حکم دیا بودجه جذبات کے غالب ہونے کے جواب تو نہ دے سکے مگر انہوں نے آسمان کی طرف اپنا ہاتھ اٹھا دیا۔جس کے معنے یہ تھے۔خدا کا حکم یہی ہے اور اسی کے سپرد کر کے تمھیں چلا ہوں باوجود اس کے کہ کوئی انسانی عقل یہ تجویز نہیں کر سکتی تھی کہ حضرت اسمعیل اور حضرت ہاجرہ کو اس وادی بے آب و گیاہ میں پانی کا مشکیزہ ختم ہونے کے بعد پانی مل سکے گا با وجود اس کے کہ کوئی انسانی عقل یہ تجویز نہیں کر سکتی تھی کہ حضرت اسمعیل اور حضرت ہاجرہ کو کھجوروں کی تھیلی ختم ہونے کے بعد اس وادی بے آب و گیاہ میں کھانا مل سکے گا۔اور باوجود اس کے کہ کوئی انسانی عقل یہ تجویز نہیں کر سکتی تھی کہ حضرت اسمعیل اور حضرت ہاجرہ کو اس وادی ہے آب و گیاہ میں کوئی مونس و غمگسار مل جائے گا جو بیماری میں ان کی تیمارداری کر سکے اور ان کی ضروریا کو پورا کرنے کا شکر کرے۔لیکن چونکہ ابراہیمی ایمان حضرت ہاجرہ میں اسی طرح سرایت کر چکا تھا جس طرح آگ کے پاس بیٹھنے والا گرم ہو جاتا ہے اس لئے جب حضرت ہاجرہ کو معلوم ہوا کہ حضرت