خطبات محمود (جلد 2) — Page 181
101 کوئی بتا سکتا ہے کہ کسی بڑے سے بڑے چور اور ڈاکو کے متعلق اتنی گالیاں سوچی اور کی گئی ہوں تو انبیاء کے دشمنوں کا دماغ گند کی ایجاد میں کمال کو پہنچے جاتا ہے اور اس طرح نبوت ایک رنگ میں انعام اور ایک رنگ میں ابتداء ہو جاتی ہے۔محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ساری عمر قربانی میں گزار دی۔مگر جب بادشاہت کا وقت آیا تو حضرت ابو سگی اور نظر آئے مگر ان کے زمانہ میں بھی خطرات ابھی باقی تھے اور انہوں نے کوئی ذاتی لذت بادشاہت سے نہیں اُٹھائی۔ان کے بعد بنو امیہ اور بنو عباسش آگئے ان کے زمانہ میں ساری دنیا فتح ہوئی اور وہ امیر المؤمنین بن گئے۔یہ سب انعام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے صلہ میں ملیے تو نبی اور خلفاء تو دکھ ہی اٹھاتے ہیں مگر بعد میں آنیوالوں کو انعام ملتے ہیں محمد رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو حالت تھی اس کا اندازہ اس سے ہوں کتا ہے کہ عرب میں چکی نہ ہوتی تھی اور پتھر پر کوٹ کر غلہ کا آٹا بنا لیا جاتا جو بہت موٹا ہوتا تھا یا بعد میں جب ایران فتح ہوا تو وہاں سے چکیاں آئیں۔اور غروب میں بھی باریک آٹا ملنے لگا۔ایک دفعہ حضرت عائشہؓ کے سامنے باریک آئے کے نرم نرم کھلے رکھے گئے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔آپ کی ایک سہیلی نے اس کا سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ ان پھلکوں کا ہر تعمہ میر سے گلے میں پھنستا ہے۔اس نے کہا یہ تو نرم ہیں۔آپ نے کہا کہ میرے دل میں خیال آرہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یہ ہوتے تو آپ کو بھی کھلاتے لیے تو رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں یہ حالت تھی کہ کھانے کو موٹا آٹا ملتا تھا مگر آپ کے طفیل ہزاروں بادشاہ پیدا ہوئے۔پس نبوت بے شک انعام ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ساری عمر قربانی ہی کرتے رہے۔یہی حالت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہم دیکھتے ہیں۔آپ کی ساری عمر اسی طرح گزری کہ کہیں پھر ہیں ، کہیں گالیاں ہیں کہیں مقدمے دائر کئے جار ہے ہیں۔کہیں شورشیں بپا کی جاتی ہیں۔حتی کہ جس وقت آپ کی وفات ہوئی اس وقت بھی جبکہ ہمارے دل زخمی تھے اور دنیا ہماری آنکھوں میں تیرہ و تاریعتی، ہزاروں، لوگ مختلط گالیاں بک رہے اور پتھر مار رہے تھے۔حالانکہ کسی بڑے سے بڑے چور اور بدمعاش کی وفات پر بھی یہ لوگ کبھی نہیں ہوا ہو گا۔ہمارے تعلق کہا جاتا ہے کہ ہم نے اپنی حکومت بنا رکھی ہے لیکن کیا حکومت ایسی ہی ہوتی ہے، ان لوگوں میں سے کوئی ایسا شریف آدمی نہ تھا جو انہیں بنا سکتا کہ مرنے والے سے محبت کرنے والے لوگ اندر بیٹھے رو رہے ہیں۔تم لوگ خدا تعالے کا خوف کرو اور ان کے دل نہ دکھاؤ۔پھر آپ کے بعد بھی ہیں حال ہے۔بے شک اللہ تعالے نے