خطبات محمود (جلد 2) — Page 158
100 آج کفر اسی طرح زور و طاقت میں ہے جس طرح بنزید کی فوجیں زور و طاقت میں تھیں اور اسلام اسی طرح پیار و نیکیں ہے جس طرح زین العابدین جن کے باپ اور رشتہ دار جو دیشن کے مقابلہ کی طاقت رکھتے تھے مارے گئے تھے اور وہ خود بے کسی کی حالت میں تڑپ رہے تھے۔آپ فرماتے ہیں۔آج دین کی وہی حالت ہے جو زین العابدین کی تھی اور کفر کی وہی حالت ہے جو یزید کی فواج کی تھی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلامہ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ علم کے لائے ہوئے دین کو ایک بچہ سے تشبیہ دی ہے اور ہمیں اس امر کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ دیکھو حضرت ہاجرہ نے اپنے بچہ کے لئے جو تڑپ دکھلاتی کیا تم محمد مصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے دین کے لئے ایسی تڑپ دکھانے کے لئے تیار نہیں یہ اگر واقعہ میں ہمارے دلوں میں اسلام کی محبت ہے ، قرآن کریم کی عظمت ہے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عشق ہے تو پھر دنیا کی مخالفتیں کچھ حقیقت نہیں رکھتیں ایک اور صرف ایک خیال تمہارے دلوں میں ہونا چاہئے اور وہ یہ کہ اس وقت اسلام کو مٹانے کے لئے دنیا متحد ہو رہی ہے۔آج لوگوں کے دلوں سے قرآن کا نوریسٹ گیا، قلوب کی صفائی جاتی رہی۔وہ تعلیم جو دنیا کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے آئی تھی ، آج خود زمین پر مسلی جارہی ہے۔وہ نبی جو دنیا کو گنا ہوں سے پاک کرنے کے لئے آیا تھا۔آج ہرقسم کے غیوب اور گناہ اس کی طرف منسوب کئے جا رہے ہیں۔وہ دین جو دنیا کو ترقی دینے اور مردوں کو زندہ کرنے کے لئے آیا تھا، آج خود اس کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔کوئی نہیں جو اس کا درد رکھتا ہو، کوئی نہیں جو اس کی اشاعت کا خیال رکھتا ہو۔دل مردہ ہو چکے ، آنکھوں کی بنائی جاتی رہی اور محبت مفقود ہو گئی۔آج لوگوں کی تمام غیر نہیں صرف اپنے نفوس کے لئے رہ گئی ہیں۔آج ان کی تمام قوتیں صرف اپنی بڑائی اور شان و شوکت کے حصول کے لئے صرف ہو رہی ہیں، صرف ایک۔ہاں صرف تم جو دنیا میں کمزور سمجھے جاتے ہو۔تم جو دنیا میں حقیر سمجھے جاتے ہو، تمھیں خدا نے جینا ہے تا ہم سے وہ اپنے دین کی اشاعت کا کام ہے جس طرح آج سے ہزار ہا سال پہلے خدا نے حضرت اسمعیل کو چنا اور انہیں ایک وادی غیر ذی زرع میں رکھنے کا حکم دیا اسی طرح ہاں اسی طرح خدا نے تم کو چن لیا اور تمھیں بھی ، اپنے عزیزوں سے جُدا ہونا پڑا۔تمہاری باتیں بھی تڑپتی ہیں جب تمھیں تبلیغ کے لئے دور دراز ملکوں میں جانا پڑتا ہے۔مگر انہیں کیا پتہ کہ حضرت ہاجرہ کا دل بھی اسی طرح تڑپتا تھا۔مگر اس نے خدا کے لئے مصاب کو برداشت کیا۔چند روز ہوئے مجھے ایک ماں نے واقعہ سُنایا اس کا ایک بچہ جو نہایت