خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 138

۱۳۸ نہیں کرتے تو گویا باغ کی اہمیت کو گرانے کے ساتھ ہی اپنے وجود کی ضرورت کو بھی کھوتے ہیں۔اگر کوئی پودا پھل نہیں دیتا تو اس کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔اسی طرح اگر کیسی احمدی کا وجود دنیا کے لئے فائدہ رساں نہیں اور اگر وہ دنیا کی بھلائی کی خاطر ہر قربانی کے لئے آمادہ نہیں تو پھر اس کے علیحدہ وجود کی بھی ضرورت نہیں۔یہ عید جہاں ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ خدا تعالئے جب کسی قوم کو ترقی دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے علیحدہ کر کے ایسے مقام پر کھڑا کرتا ہے جہاں دوسرے اس سے نہ مل سکیں۔اور جہاں کھڑا رہنا بظاہر اس کی تباہی کے مترادف ہو لیکن خدا تعالے کی نصرت اسے بڑھاتی ہے وہاں بھی اسی عید سے یہ سبق بھی حاصل ہوتا ہے کہ بغیر قربانی کے اتحاد نہیں ہو سکتا۔اس عید کے موقعہ پر تمام دنیا کے مسلمان ایک مقام پر جمع ہوتے ہیں تا خدا تعالے کی معرفت حاصل کریں۔اور اس کے پینے ہیں کہ قربانی کے بغیر نہ باہمی اتحاد ہو سکتا ہے اور نہ ہی خدا تعالے سے وصال۔آج کے دن بکر سے کھانے کے لئے ذبح نہیں کئے جاتے بلکہ کھانے کے لئے کئے جاتے ہیں جس کے یہ معنے ہیں کہ ہم دوسروں کے لئے اپنا خون اور گوشت قربان کرنے کو تیار ہیں۔ہم نے کئی دفعہ ایسے لطیفے دیکھتے ہیں۔کہ ایک شخص نے دوسرے کے ہاں گوشت بھیجا اس نے آگے کسی اور کے ہی بھیج دیا۔اور اس طرح دس بارہ گھروں میں پھر پھرا کر وہی گوشت اسی کے گھر آ گیا۔جس نے بھیجا تھا۔اور اس نے اپنا بھیجا ہوا گوشت پہچان لیا۔ہم اسے بے فائدہ کام نہیں کہ سکتے کیونکہ اس گوشت نے دس بارہ آدمیوں سے اس بات کا اقرار لے لیا ہے کہ ہم اپنا خون اور گوشت پوست ایک دوسرے کے لئے قربان کرنے کو تیار ہیں وہ اپنے ساتھ دس بارہ برکتیں لے کر آیا ، اب اگر وہی گوشت بھیجنے والے کے گھر میں پکے تو وہ اس کے لئے برکت کا موجب ہوگا کیونکہ وہ دس گھرانوں سے اتحاد کا اعترار کر اچکا ہے۔آج کے دن جو قربانی کی جاتی ہے وہ اس بات کا اقرار ہوتا ہے کہ ہم دنیا کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے کو تیار ہیں اور پھر یہ خدا کے سامنے اقرار ہوتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو تیرے لئے قربان کرنے کو تیار ہیں، نیز یہ اتحاد کا دن ہے اور اس سے سبق حاصل کرنا چاہیئے۔پس اپنے دل میں عمد کرو کہ ہم اپنے بھائی کے لئے ہر قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں اگر کسی کو تباہ ہوتا دیکھو تو ہر ممکن قربانی کر کے اسے بچاؤ۔میں دیکھتا ہوں کچھ عرصہ سے ہماری جماعت کے بعض دوستوں میں یا حساس ترقی کرتا جارہاہے کہ ہم نے اپنا حق ضرور لینا ہے۔انہیں یا درکھنا چاہیئے کہ جو اپنا انتہائی حق لینے کے لئے کھڑا ہوتا ہے دہ دوسرے کا حق ضرور مارتا ہے۔رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ہر بادشاہ کی رکھ ہوتی