خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 102

١٠٢ میں لگائیں گے اتنی دیر ہمیں تزکیہ حاصل کرنے میں ہوگی۔پس اگر تز کیہ چاہتے ہو تو قربانی میں جلدی کرو۔دونوں عیدیں مقررہ معینوں کے بعد آتی ہیں اور ان دونوں میں یہ تمیز ہے کہ ایک عید تو مغرزه قربانیوں کے بعد آتی ہے اور ایک کے ساتھ یا بعد قربانی کی جاتی ہے۔اسی طرح عیسوی سلسلوں میں قربانی پہلے ہوتی ہے اور تزکیہ پیچھے اور موسوی سلسلوں میں تزکیہ پہلے اور قربانی بعد میں حضرت مو نے علیہ السلام اپنی زندگی میں ہی بادشاہ ہو گئے لیکن حضرت عیسے علیہ السلام اپنی زندگی میں بادشاہ نہ ہو سکے۔بلکہ ان کے بعد ان کے پیروؤں کو بادشاہت ملی۔یہی حال حضرت مسیح موجود عليه الصلوۃ والسلام کا ہے۔پس نادان ہیں وہ جو کہتے ہیں ترقی نہیں کی۔ہم کہتے ہیں ترقی بعد میں آتی ہے پہلے قربانیوں کو تو اس حد تک پہنچاؤ جس حد پر پہنچ کر کھلی کھلی ترقیاں حاصل ہوتی ہیں۔اس سے دونوں قسم کے سلسلوں کی حالت کا اندازہ ہوتا ہے۔اور یہ ہمارے لئے سبق ہے لیکن بڑا سبق اصلی واقعہ سے نکلتا ہے اور وہ واقعہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی قربانی ہے۔دنیا میں مختلف طبائع ہوتی ہیں، بعض لوگ ماں باپ سے محبت کرتے ہیں اور دوستوں یا رہوں کی پرواہ نہیں کرتے۔بعض ماں باپ کے احکام کی اتنی مقدر نہیں کرتے جتنی دوستوں کی خو اس سے کی مقدر کرتے ہیں۔بعض دوستوں سے زیادہ محبت کرتے ہیں اور رشتہ داروں سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔بعض رشتہ داروں کی دلداری کرتے ہیں اور دوستوں کا خیال نہیں کرتے۔پھر بعض ایسے ہوتے ہیں جن کے تعلقات بچوں سے زیادہ ہوتے ہیں اور بڑوں کی طرف وہ کبھی دیکھتے نہیں۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالے کے لئے ان تینوں قسم کے تعلقات کی قربانی کی جب آپ نے دعوی کیا تو رشتہ داروں اور دوستوں نے مقابلہ کیا، آپ نے ان کی پرواہ نہ کی۔آپ نے اپنے اب سے خدا کے لئے مقابلہ کیا۔دوسرے اقرانِ قوم سے محبتیں ہوتی ہیں آپ نے ان کا بھی مقابلہ کیا۔دوستوں نے مخالفت کی دوستوں کا بھی مقابلہ کیا۔شاید کوئی کہے ان کے ساتھ محبت نہ ہوگی۔اس لئے ان کی محبت کو قربان کر دیا اور ان کا۔مقابلہ کیا۔ان کے بالمقابل شاید اولاد سے زیادہ محبت ہوگی کیونکہ عام طور پر ماں باپ کو بچوں سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔میں نے امینے ماں باپ کو دیکھا ہے جو بچوں کی خاطر سب محلے سے لڑتے رہتے ہیں۔تو دنیا میں مختلف طبائع ہوتی ہیں۔کوئی کہہ سکتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ماں باپ دوست یار چھوڑ دیئے۔ممکن ہے ان کے ساتھ زیادہ محبت نہ ہو اور بچوں کے ساتھ زیادہ محبت ہو، ان کو نہ چھوڑ سکتے۔خدا نے کہا۔اچھا لڑکے کی مہربانی کرے