خطبات محمود (جلد 2) — Page 3
ز بمقامه فرموده ۳۱ اکتو بریتشان باد میدان دارالعلوم قادیان میدان ياتها الذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السَّلْمِ كَا فَهُ، وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوتِ الشَّيْطَنِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُو مينه آج کا دن مہربانی کا دن کہلاتا ہے گیا مسلمانوں میں بہت قربانیاں کی جاتی ہیں لاکھوں لاکھ بکرے اور ہزاروں ہزار اونٹ اور گائیں خدا کے نام پر ذبح کی جاتی ہیں۔قربانی کیا ہے اور اس کے کہ نیکی کیا ضرورت ہے ؟ اس سوال کا جواب قربانی کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ اللہ تعالے کا قرب حاصل کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔اور اس سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔دنیا میں بہت سی قربانیاں ہوتی رہی ہیں اور اب بھی ہوتی ہیں۔بعض اپنے بتوں کے لئے بعض اپنے دیوی دیوتاؤں کے لئے اور بعض اپنے نبیوں کے لئے قربانیاں کرتے حتی کہ بیٹیوں کو بھی ذبح کر دیتے تھے۔حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اہل دنیا کو بتایا کہ بہتوں ، دیوی دیوتاؤں اور نبیوں کے لئے قربانی کرنا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔اگر تم اپنے بیٹوں کی قربانی کرنا چاہتے ہو تو ہم تمھیں بتاتے ہیں کہ اس طرح کرنی چاہیئے۔دیکھو ایک بیٹے کی قربانی ہم نے ابراہیم سے کروائی۔رویا میں قربانی کا نظارہ اس کو دکھایا کہ بیٹے کو ذبح کر دیے اس رنگ میں ہم نے اس کو بتایا کہ بیٹے کی قربانی یہ ہوتی ہے کہ اس کو ایسی تعلیم دی جائے کہ دین کے لئے وہ اپنے آپ کو قربان کر سکے۔اور ساری زندگی دین کے لئے وقف کر دئے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو وادی غیر ذی زرع میں اللہ کے حکم کے ماتحت چھوڑ آئے جہاں نہ پانی تھانہ کھانا نہ کوئی ساتھی تھا اور نہ مدد گار۔اور یہی اُن کے بیٹے کی قربانی تھی جو انہوں نے کردی ہے اور یہ بہت بڑی قربانی تھی۔اپنے ہاتھ سے بیٹے کو ذبح کر دینا آسان ہے لیکن ایک ایران دسنسان جنگل میں بغیر کسی معین و مددگار اور بغیر کسی دانہ پانی کے چھوڑ آنا بہت مشکل ہے۔کیونکہ ذبح کرنے والا سمجھتا ہے کہ ایک دم میں جان نکل جائے گی اور پھر کوئی تکلیف نہ رہے گی مگر جنگل میں اس طرح چھوڑ آنے کا بظاہر میطلب ہے کہ تڑپ تڑپ کر کسی وقت جان نکلے اور ایڑیاں رگڑہ رگریا کر جان دے لیکن خدا تعالے کا اسی طرح حکم تھا اور اس نے بتا دیا تھا کہ جو میرے حکم کے مانخت الفضل کی رپورٹ کے مطابق نماز عید مسجد نور میں ادا کی گئی۔(مرتب)