خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 70

$1948 70 خطبات محمود جاتے ہیں حالانکہ اگر ان میں ایک ذرہ بھر بھی غیرت ہوتی تو جب تک یہ اپنی اس ہتک کا ازالہ نہ کر لیتے اُس وقت تک سانس لینا بھی انہیں دو بھر ہوتا۔ان کا فرض تھا کہ خواہ صلح سے ملتا یا جنگ سے وہ اپنا علاقہ لینے کی کوشش کرتے۔اور سانس نہ لیتے جب تک اپنی کھوئی ہوئی عزت حاصل نہ کرتے۔گو ہندو اپنی جگہ واپس لینے کو پاکستان آ رہا ہے مگر مسلمان سو رہا ہے۔وہ ادھر ادھر بھیک مانگتا پھرتا ہے۔وہ اپنی اٹھائی ہوئی بیوی یا بہن یالڑکی کو بھول چکا ہے اور اُس کی نظر سکھوں کے چھوڑے ہوئے مربعوں پر ہے یا ہندوؤں کی چھوڑی ہوئی دکانوں پر۔اس بے غیرت کا دنیا میں کوئی مقام نہیں۔ایسا انسان زندہ رہنے کے قابل نہیں۔مسلمانوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ جب تک ان میں غیرت پیدا نہیں ہوگی ، جب تک وہ محنت کی عادت اپنے اندر پیدا نہیں کریں گے نہ خدا کی مدد نہیں حاصل ہوسکتی ہے اور نہ دنیا میں کوئی عزت کا مقام وہ حاصل کر سکتے ہیں۔آخر خدا نے ہر چیز کے حصول کے لیے کچھ رستے مقرر کیے ہیں۔جب تک کوئی شخص اُن رستوں کو اختیار نہیں کرتا اُس وقت تک اُسے کبھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ نے روٹی پکانے کے لیے یہ قانون مقرر کیا ہے کہ پسے ہوئے آٹے میں پانی ملا کر اُسے گوندھا جائے۔پھر چولہے میں آگ جلائی جائے۔چولہے پر توار کھا جائے اور پھر گندھے ہوئے آٹے سے روٹی تیار کی جائے۔اگر کوئی شخص اس طریق کو اختیار نہیں کرتا اور سارا دن آئے پر ڈنڈے مارتا رہتا ہے تو وہ کبھی بھی روٹی تیار نہیں کر سکتا۔جس طرح سارا دن اگر کوئی شخص لکھتا بیٹھا رہے تو روٹی تیار نہیں ہو جائے گی اسی طرح اگر کوئی شخص سارا دن آئے پر ڈنڈے مارتا رہے اور غلط قسم کی محنت کرتا رہے تب بھی روٹی تیار نہیں ہوگی۔کیونکہ روٹی کے لیے خدا تعالیٰ نے جو قانون مقرر کیا ہے اُس کو نہ اس نے اختیار کیا ہے نہ اُس نے۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے کپڑے سینے کے جو اصول مقرر فرمائے ہیں جب تک کوئی شخص اُن اصول کو اختیار نہیں کرے گا اور اُن اصول کے مطابق محنت نہیں کرے گا وہ کبھی کپڑا نہیں سی سکے گا۔خدا نے کپڑا سینے کے لیے یہ اصول مقرر فرمایا ہے کہ سوئی میں تا گا ڈالا جائے اور پھر سوئی سے سلائی کی جائے۔جو شخص سوئی ہاتھ میں نہیں پکڑتا یا مشین سے کام نہیں لیتا وہ کبھی بھی کپڑا نہیں ہی سکتا۔جس طرح مادی دنیا میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے قانون جاری کیے ہیں اسی طرح دنیا کی حالت اور دین کی حالت سدھارنے کے لیے بھی خدا تعالیٰ نے کچھ قانون مقرر فرمائے ہیں۔اُن قانونوں کی پابندی کرنے کے