خطبات محمود (جلد 29) — Page 71
$1948 71 خطبات محمود بعد ہی انسان کامیاب ہو سکتا ہے۔جو شخص اُن قانونوں کی پابندی نہیں کرتا وہ سوائے ندامت اور نا کامی کے اور کچھ حاصل نہیں کر سکتا۔میں نے دیکھا ہے وہ لوگ جن کو مسلمان وحشی کہتے ہیں وہ بھی اس بات کو وب سمجھتے ہیں کہ زندگی کس طرح بسر کرنی چاہیے اور کامیابی رکن اصول پر چل کر حاصل ہوتی ہے مگر مسلمان اُس وحشی قوم کے افراد کے برابر بھی اس نکتہ کو نہیں سمجھتے۔قادیان میں میں جب بھی سیر کے لیے جاتا اور راستہ میں کھیتیاں آتیں تو میں فوراً سمجھ جاتا یہ سکھ زمیندار کی کھیتی ہے اور یہ مسلمان زمیندار کی کھیتی ہے۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سکھ کی فصل تو یہاں یہاں تک ہوتی “۔حضور نے سینہ کی طرف اشارہ کیا۔اور مسلمان کی فصل یہاں تک ہوتی “۔حضور نے کمر پر ہاتھ لگایا۔اس امتیاز کی وجہ سے بغیر اس علم کے کہ یہ سکھ کی کھیتی ہے یا مسلمان کی میں فور اسمجھ جاتا تھا کہ دونوں میں سے یہ کس کی کھیتی ہے۔درجنوں دفعہ ایسا ہوا ہے کہ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ سکھ کی فصل معلوم ہوتی ہے۔اور جب آدمی بھجوا کر پتہ کروایا تو معلوم ہوا کہ واقع میں وہ سکھ کی ہے۔حالانکہ زمین وہی ہوتی ہے، پانی وہی ہوتا ہے، بیج وہی ہوتا ہے مگر ایک کی فصل اچھی ہوتی ہے اور دوسرے کی ناقص۔مسلمان کہتے ہیں کہ ملیریا نے ہمیں مار لیا مگر سوال یہ ہے کہ ملیر یا سکھ کو کیوں نہیں مارتا۔اسی لیے کہ وہ خود نہیں مرتا۔اور جو شخص پہلے ہی مرنے کے لیے تیار ہوا سے ملیر یا بھی مار لیتا ہے۔ہیضہ بھی مار لیتا ہے۔ٹائیفائیڈ بھی مار لیتا ہے مگر جو آپ مرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا اُسے کوئی بھی مارنے کی طاقت نہیں رکھتا۔جس شخص کی حالت یہ ہو کہ وہ پہلے ہی اپنے آپ کو نیچا کر دیتا اور زمین پر گرا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ختم ہو گیا اس کی خدا کیوں مدد کرے۔جو شخص اپنے آپ پر بدظنی کرتا اور اپنی قابلیتوں کو کھو دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی کبھی مدد نہیں کرتا۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت نے بھی اس معاملہ میں اچھا نمونہ نہیں دکھایا۔اُنیس بیس کا فرق ہو تو اور بات ہے ورنہ جہاں تک محنت کا سوال ہے، جہاں تک کوشش اور ہمت کا سوال ہے، جہاں تک کام کرنے کی روح کا سوال ہے ہمیں ان میں اور اُن میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔