خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 50

$1948 50 خطبات محمود کی تعلیم کو پھیلایا جائے۔اگر اس کام کے لیے ہم تیار ہیں تو یقیناً ابتلا ؤں پر ہم غالب آجائیں گے۔لیکن اگر ہم اس کے لیے تیار نہیں تو ابتلاء ہم پر غالب آجائیں گے۔پس میں ایک دفعہ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے افراد کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اگر وہ اپنی اصلاح کرلیں تو وہ دُہرے ثواب کے مستحق ہوں گے۔لیکن اگر اُنہوں نے اصلاح نہ کی تو جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے وہ دُہرے عذاب کے مستحق ہوں گے۔بہر حال خدا تعالیٰ کی طرف سے جب تک سلسلہ کی یہ حیثیت قائم ہے جب بھی کوئی آواز بلند ہوگی اُس آواز کا پہلا مخاطب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خاندان ہوگا۔اور اُن کا فرض ہوگا کہ وہ قرآن پڑھیں، حدیث پڑھیں اور مختلف ملکوں میں تبلیغ کے لیے نکل جائیں تا پھر مسلمان ایک ہاتھ پر جمع ہو کر اسلام کی عظمت کا موجب بنیں۔جو افتراق اور شقاق اس وقت مسلمانوں میں پایا جاتا ہے وہ اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ ہر مسلمان اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنانے کی فکر میں ہے۔کہیں مذہبی اختلاف کو آپس کے افتراق کا ذریعہ بنایا جارہا ہے اور کہیں سیاسی اختلافات کو آپس کے افتراق کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔اس تباہی اور بربادی کا سوائے اس کے اور کوئی علاج نہیں کہ پھر مسلمان احمدیت کے ذریعہ ایک ہاتھ پر ا کٹھے ہو جائیں اور پھر کفر پر حملہ کر کے اُسے تباہ کر دیا جائے۔اور یقیناً ایسا ہو سکتا ہے۔یہ خیال کہ ہم تھوڑے ہیں اور دشمن زیادہ ہے بالکل غلط ہے۔ہندوستان کے نو کروڑ مسلمان جو اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں اگر اُن کا چوتھا حصہ یعنی سوا دو کروڑ مسلمان بھی ایک ہاتھ پر جمع ہو جائے تو نہ صرف ہندوستان کے تمیں کروڑ غیر مسلموں پر بلکہ چین اور جاپان پر بھی جس کی آبادی شامل کر کے ایک ارب تک پہنچ جاتی ہے ہمیں غلبہ حاصل ہو سکتا ہے۔ہم اس سے گھبرانے والے نہیں کہ ہم تھوڑے ہیں اور دشمن زیادہ ہے۔روحانیت میں بہت بڑی طاقت ہوتی ہے اور یہ طاقت خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمیں حاصل ہے۔بے شک مادی اور ظاہری سامانوں میں بھی طاقت ہوتی ہے مگر مادی اور ظاہری سامان صرف جسم فتح کرتے ہیں اور روحانی طاقت دشمن کے اس مقام پر حملہ کرتی ہے جہاں اُس کا بچاؤ بالکل ناممکن ہوتا ہے۔اگر اسلام کا صحیح نمونہ پیش کیا جائے اور والہانہ طور پر اس کی تبلیغ اور اشاعت کی جائے تو وہی لوگ جو آج ہمارے دشمن اور ہمارے مقابل میں لڑ رہے ہیں کل ہمارے ساتھ شامل ہو کر اسلام کی طرف سے کفر کے مقابلہ کے لیے نکل کھڑے ہوں گے۔