خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 49

$1948 49 خطبات محمود اندر جوش پیدا کریں گی۔اور اگر نہیں کریں گی تو اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کے ذریعہ ایک نئی جماعت پیدا کر دے گا۔بہر حال اُن کا یہ کام نہیں کہ وہ دین سے غافل رہیں۔قرآن اور حدیث سے واقفیت پیدا نہ کریں اور کرنٹے 1 بنے ہوئے چوڑھے عیسائیوں کی طرح پتلونیں پہنتے پھر ہیں۔اگر ایسی صورت میں وہ اپنے آپ کو وقف بھی کرتے ہیں تو اُن کے وقف کے کوئی معنے نہیں ہو سکتے۔آخر وقف کے بعد ہم اُن سے کیا کام لیں گے؟ یہی کام لیں گے کہ وہ مختلف علاقوں میں جائیں اور تبلیغ کریں۔مگر اس کے لیے اُنہیں سب سے پہلے اپنا نمونہ پیش کرنا چاہیے۔اگر وہ یہ کام نہیں کر سکتے ، اگر وہ اس اہم امر کی طرف توجہ نہیں کر سکتے تو اُنہوں نے کرنا کیا ہے؟ کیا ہم نے اُن کا مرتبہ اور اچار ڈالنا ہے یا ہم نے اُن کی چٹنیاں ڈالنی ہیں؟ یہی کام ہے جس کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دنیا میں مبعوث وئے تھے کہ اسلام اور احمدیت کو پھیلایا جائے۔اگر اُن کے دلوں میں قرآن اور حدیث پڑھنے کا شوق نہیں، اگر اُن کے دلوں میں قرآن اور حدیث کا درس دینے کا شوق نہیں تو کیا کام ہے جو وہ کرنا چاہتے ہیں؟ اور کس غرض کے لیے وہ اپنے آپ کو وقف کرتے ہیں؟ جو کام وہ اس وقت کر رہے ہیں اُس کے لیے تو ایک ہندو اور عیسائی بھی نوکر رکھا جا سکتا ہے۔پس پہلے انہیں اپنے اندر دین پیدا کرنا چاہیے، پہلے اپنی نمازیں درست کرنی چاہیں، پہلے قرآن اور حدیث پڑھنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے اُس کے بعد انہیں دین کی تبلیغ کے لیے نکل جانا چاہیے۔جیسے پرانے زمانہ میں صوفیاء باہر نکلے اور ملکوں کے ملک انہوں نے اسلام میں داخل کر لیے۔یہی ملک جس میں سے آج چھپن لاکھ مسلمان اس طرح بھاگا ہے کہ چند دنوں میں ہی سارا مشرقی پنجاب مسلمانوں سے خالی ہو گیا۔اس ملک میں حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی آئے اور سارا ملک اُنہوں نے مسلمان بنالیا۔آخر وہ کیا چیز تھی جو خواجہ معین الدین صاحب چشتی کو حاصل تھی؟ وہ کیا چیز تھی جس نے حضرت باوانا نک کو حضرت فرید الدین صاحب شکر گنج والوں کے دروازہ پر لا کر ڈال دیا۔اگر فرید الدین صاحب شکر گنج والے اپنے عمل اور طریق سے باوانا تک کی آنکھوں کو نیچا کر سکتے تھے تو اگر اس زمانہ کا مسلمان بھی فرید الدین بن جائے تو کیوں وہ سکھ کی آنکھ کو نیچا نہیں کرسکتا۔یقینا وہ ایسا کر سکتا ہے۔مگر اس کے لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن اور حدیث کو پڑھا جائے ، قرآن اور حدیث پر عمل کیا جائے اور قرآن اور حدیث