خطبات محمود (جلد 29) — Page 431
$1948 431 خطبات محمود بادشاہ پر یہ اثر ڈالنے کی کوشش کی کہ ہمیں اس جنگ میں نہیں کو دنا چاہیے بلکہ دب کر صلح کر لینی چاہیے۔بادشاہ عبدالمجید نے جب ان کے بیانات کو سنا جو انہوں نے دیئے تو اُس نے کہا دیکھو! دنیا میں کچھ کام بندہ کرتا ہے اور کچھ کام خدا تعالیٰ خود کرتا ہے۔آپ نے بعض امور کے متعلق کہا ہے کہ ان میں ہماری کافی تیاری ہے اور ہمارے پاس کافی سامان موجود ہیں اور بعض امور کے متعلق کہا ہے کہ ان میں ہماری تیاری کافی نہیں اور مکمل سامان موجود نہیں۔وہ کام جو ہم کر چکے ہیں اور وہ سامان جو ہم مہیا کر چکے ہیں وہ تو بندہ کی کوشش کا نتیجہ ہیں اور یہ ہم پر ایک فرض تھا جو ہم نے ادا کر دیا اور جن امور میں آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم کمزور ہیں اور ہمارے پاس کافی سامان موجود نہیں وہ خدا تعالیٰ کا حصہ ہیں۔آخر خدا تعالیٰ کا خانہ بھی تو خالی چھوڑنا ہے۔ہر کام انسان نہیں کر سکتا۔ایک حد تک وہ کوشش کرتا ہے مگر جو کام اُس کی طاقت سے باہر ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ خود کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ کا خانہ اگر خالی رہے تو کوئی حرج نہیں۔جس قدر ہم محنت اور کوشش کر سکتے ہیں اُس حد تک ہمیں دریغ نہیں کرنا چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے بادشاہ عبدالمجید نے خدا تعالیٰ پر توکل کیا اور کہا کہ ہر کام میں خدا تعالیٰ کا بھی حصہ ہوتا ہے اُس کو پورا کرنے کے لئے ہمیں خدا تعالیٰ سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔گویا یہ اس کے تو کل کا اچھا نمونہ ہے اس لیے مجھے اُس سے محبت ہے۔غرض دنیا میں جتنے کام ہوتے ہیں اُن کا کچھ حصہ تو بندے کے سپر د ہوتا ہے اور وہ اُس کو کرتا ہے اور کچھ حصہ اُن کا ایسا ہوتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نے خود کرتا ہے۔میں نے جماعت کو بار ہا توجہ دلائی ہے کہ ہماری جماعت کے پاس سامان تھوڑے ہیں اور اُن کے ساتھ ہم اُس کام کو پورا نہیں کر سکتے جو ہمارے سپرد ہیں اور جو خدا تعالیٰ نے ہمارے ذمہ ڈالے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کی جماعتوں کے سپر د جو کام ہوتے ہیں ان میں جہاں تک بندے کی کوشش اور جد و جہد کا سوال ہوتا ہے اور جہاں تک ہمارے لیے ممکن ہوتا ہے ہمارا فرض ہوتا ہے کہ ہم اُسے اُس حد تک پورا کریں اور جتنی کمی رہ جائے اُس کو پورا کرنے کے لیے خدا تعالیٰ کے سامنے جھکیں اور اس سے درخواست کریں کہ وہ اسے پورا کر دے۔پس جہاں یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی طاقت اور وسعت کے مطابق سامان جمع کریں وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ جو کام ہماری طاقتوں سے باہر ہوں ان کے لیے خدا تعالیٰ سے بھی مدد مانگتے رہیں کہ وہ ان کمیوں اور خامیوں کو جو ان میں رہ گئی ہیں اور جن کو پورا کرنا