خطبات محمود (جلد 29) — Page 28
$1948 28 خطبات محمود بڑے بڑے کام سرانجام دیئے ہیں۔لیکن ان دونوں کا طریق کاراتنا متبائن اور اتنا مختلف ہے کہ ان میں کسی قسم کی مشابہت پائی نہیں جاتی۔اگر دنیا میں ایک ہی نبی آیا ہوتا تو اُس کے ساتھ اور اُس کی جماعت کے ساتھ خدا تعالیٰ کے سلوک کو دیکھ کر ہم اِس غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتے تھے کہ خدا تعالیٰ کا معاملہ اس کے ساتھ استثنائی تھا لیکن جب دنیا میں بعض روایات کے مطابق ایک لاکھ بیس ہزار نبی آئے۔بلکہ ایک لاکھ بیس ہزار کا سوال جانے دو انہی انبیاء کے حالات کا مطالعہ کرو جن کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے جو ایک یا دو نہیں بلکہ ایک درجن سے بھی زیادہ ہیں اور دو درجن کے قریب ہیں۔پھر ان کے علاوہ بعض ایسے انبیاء بھی گزرے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں نہیں آتا۔مگر قرآن کریم کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق ہم مجبور ہیں کہ ان کے حالات اور کام کو دیکھتے ہوئے انہیں نبی سمجھیں۔جیسے ہندوستان میں رائم اور کرشن ، ایران میں زرتشت ، چین میں کنفیوشس ،عرب میں خالد 1 ، یونان میں سقراط۔یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگیوں کے حالات قرآن کریم کے بتائے ہوئے نبیوں کے حالات کے مطابق ہیں۔اس لیے ہم قرآن کریم کے اصول کے پیش نظر ان کو نبی ماننے کے لیے مجبور ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اپنے زمانہ میں دنیا کو خدا کی طرف توجہ دلائی اور ہزاروں لاکھوں لوگوں کو گمراہی اور ضلالت سے بچایا۔دنیا نے ان کے ساتھ دشمنی کی ، انہیں ایذا ئیں پہنچائیں اور انہیں دکھ دیئے مگر انہوں نے خدا کی خاطر یہ سب تکلیفیں برداشت کیں۔پس ایک یا دو نبیوں کا سوال نہیں بلکہ متعدد انبیاء ایسے گزرے ہیں جن کے واقعات تاریخی طور پر ہم تک پہنچے ہیں۔ان کے حالات کو دیکھتے ہوئے ہم مجبور ہیں کہ ان سب کو یکساں نبی مانیں کیونکہ ان سب کی زندگیاں اور ان کے متبعین کی زندگیاں بتاتی ہیں کہ وہ لوگ مادی ذرائع سے الگ ہو کر کام کرتے رہے۔میں جماعت کو متواتر توجہ دلا رہا ہوں اور آج بھی اسی امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ انبیاء کی جماعتیں مادی ذرائع سے نہیں بلکہ تائید الہی اور تو کل پاللہ سے کامیاب ہوا کرتی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری جماعت جس زمانہ اور جن حالات میں سے گزررہی ہے اس سے پیشتر کسی زمانہ میں بھی اتنا غلبہ مادیت کا نہیں ہوا تھا۔اس لیے ضروری ہے کہ ہماری جماعت مادیت سے بچنے کے لیے پورا زور لگائے اور کوشش کرے کہ وہ مادیت کے اثرات سے بچی رہے۔ہم سے پہلی جماعتوں کو بھی مادیت کاسامنا کرنا پڑا تھا مگر ہمارے زمانہ میں مادیت کو جو غلبہ حاصل ہے اس کی مثال پہلے زمانوں میں نہیں