خطبات محمود (جلد 29) — Page 267
$1948 267 خطبات محمود بشرطیکہ کوئی عقل سے کام لے اور اپنے اوپر جنون وارد کرے۔لیکن اصل میں یہ رسمی طور پر ہوتا ہے۔اگر کوئی دوست پسند آ گیا اور اُس سے کوئی بات کہہ دی تو سمجھ لیا کہ اس نے سلسلہ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔در حقیقت دوست بنانا مقصود ہوتا ہے تبلیغ کرنا مقصود نہیں ہوتا۔اس کی غرض تو یہ ہوتی ہے کہ تعیش کے لیے کوئی بامذاق آدمی مل جائے لیکن وہ سمجھتا ہے کہ سلسلہ پر وہ احسان کر رہا ہے حالانکہ وہ شخص بعض اوقات اس قابل بھی نہیں ہوتا کہ اُسے تبلیغ کی جائے اور بسا اوقات تبلیغ کی بھی نہیں جاتی۔کسی وقت وہ اگر اتنی سی بات کہ دیتا ہے کہ فلاں ملک میں ہمارے فلاں مبلغ نے تبلیغ کی تو وہ دوست کہہ دیتا ہے واہ واه سُبْحَانَ اللهِ۔یہ تو بہت ہی اچھا کام ہے اور وہ احمدی سمجھ لیتا ہے کہ آج وہ آدھا احمدی ہو گیا ہے۔پھر کسی دن یہ کہہ دیا کہ ہم نے ایک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم کی ہے تو وہ دوست کہہ دیتا ہے سُبحَانَ اللهِ بہت اچھا کام ہے۔وہ احمدی اس سے یہ نتیجہ نکال لیتا ہے کہ وہ آج تین چوتھائی احمدی ہو گیا ہے۔غرض اگر کوئی اتنی تعریف بھی کر دے جتنی کوئی ایک گاجر کے ٹکڑے پر تعریف کر دیتا ہے تو وہ خوش ہو جاتا ہے۔آخر آپ کو دنیا کے کاموں سے اتنی محبت کیوں ہے؟ دین کی خاطر تو اتنا وقت بھی خرچ نہیں کیا جاتا جتنا وقت کسی کی بیوی یا خادمہ روٹی پکانے میں خرچ کر دیتی ہے۔پھر یہ کیا بیہودگی اور مداہنت ہے کہ آپ تبلیغ پر اتنا وقت بھی نہیں لگاتے جتنا وقت روٹی پکانے پر لگ جاتا ہے اور پھر سمجھتے ہیں کہ ہم قربانی کرتے ہیں۔میں آپ لوگوں کو ہوشیار کر دینا چاہتا ہوں کہ خدائی بادشاہت کا وقت قریب آرہا ہے اور جب خدائی بادشاہت کا وقت آتا ہے تو کمزور ایمان اور منافق لوگ کفار سے زیادہ مرتے ہیں۔جب ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا تو لوگ ایک بزرگ کے پاس گئے اور عرض کیا کہ آپ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہلاکو خان سے ہمیں محفوظ رکھے۔اُس بزرگ نے کہا میں کیا دعا کروں میں دیکھتا ہوں کہ آسمان پر سب فرشتے یہ دعا کر رہے ہیں أَيُّهَا الْكُفَّارُ اقْتُلُوا الْفُجَّارَ اَيُّهَا الْكُفَّارُ اقْتُلُوا الْفُجَّارَ یعنی اے کا فرو! اجروں کو قتل کرو، اے کا فرو! فاجروں کو قتل کرو جہاں اتنا فرشتہ یہ دعا کر رہا ہے وہاں میری دعائیں کیا کریں گی۔پس جب خدائی بادشاہت کا وقت آتا ہے تو اس قسم کے لوگ مجرموں کی صف میں کھڑے ہوتے ہیں اور کسی قسم کے انعام کے مستحق نہیں ہوتے۔جب خدائی بادشاہت قائم ہو جائے پھر اس قسم کے لوگ بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔کیونکہ اس کے بعد تنزل کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور جب تنزل کا