خطبات محمود (جلد 29) — Page 215
$1948 215 خطبات محمود میں روزوں سے محروم نہ رہ جاؤں۔وہ دو باتیں جن کی طرف میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں ان میں سے پہلی بات یہ ہے کہ حفاظت قادیان کے وعدے جن لوگوں نے کیسے تھے اب وہ ان وعدوں کی ادائیگی میں بہت سستی سے کام لے رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا اور قادیان اور مشرقی پنجاب سے ہمیں ہجرت نہ کرنی پڑتی تب تو سستی کی کوئی وجہ ہو سکتی تھی۔دشمن نے جو کچھ کیا اس کی وجہ سے تو لوگوں میں پہلے کی نسبت زیادہ جوش پیدا ہو جانا چاہیے تھا۔میرا چندہ حفاظت قادیان ہیں ہزار روپے بنا تھا جو میں نے قادیان میں ہی دے دیا تھا۔میں نے یہ رقم ادا نہ کی ہوئی ہوتی تو اگر تھوڑی سے تھوڑی طاقت بھی اس کی ادائیگی کی ہوتی تو میں ضرور سب سے پہلے یہ رقم ادا کرتا اور ہرگز یہ عذر پیش نہ کرتا کہ چونکہ میری جائیداد قادیان میں رہ گئی ہے اس لیے میں یہ چندہ ادا نہیں کر سکتا۔حق تو یہ ہے کہ اگر کوئی چیز ہمارے یاس باقی رہ گئی ہے تو اس میں خدا تعالیٰ کا حق سب سے مقدم ہے اور ہمارا حق بعد میں ہے۔مجھ سے قادیان کے بعض دوستوں نے پوچھا تھا کہ ہماری جائیداد میں قادیان میں رہ گئی ہیں ہمارے لیے اس چندہ کے متعلق کیا حکم ہے؟ میں نے ان سے کہا ان کی جائیداد میں خواہ کم تھیں یا بالکل ہی نہیں تھیں وہ صرف محنت مزدوری کر کے اپنا گزارہ کرتے تھے۔پس اس کا سوال ہی نہیں ہے کہ ان کی جائیدادیں مشرقی پنجاب میں رہ گئی ہیں۔اگر انہوں نے حفاظت قادیان کے چندے کے وعدے کیسے ہوئے تھے تو انہیں بھی اپنے وعدے ادا کرنے چاہیں اور یہ چندہ بہر حال دینا چاہیے۔میری جائیداد بھی تو قادیان میں رہ گئی ہے۔میں نے یہ چندہ قادیان میں ہی ادا کر دیا تھا۔کیا مجھے سزا اس بات کی ملنی چاہیے کہ میں نے چندہ پہلے کیوں ادا کر دیا۔اگر آپ نے ابھی تک چندہ ادا نہیں کیا تو یہ آپ کی غفلت ہے اور آپ کی غفلت کی سزا آپ کو زیادہ ملنی چاہیے نہ یہ کہ آپ کو چندہ ہی معاف کر دیا جائے۔قادیان کے دوستوں کا بہت نقصان ہوا ہے۔اگر میری ان کے متعلق یہ رائے ہے تو دوسروں کو میں کس طرح معذور سمجھ سکتا ہوں۔یہ چندہ نہایت ہی اہم ہے لیکن اس کی طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے۔کل کی رپورٹ جو مجھے ملی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ اس مد میں صرف 56 روپے کی رقم وصول ہوئی ہے۔گویا اس طرح کی وصولی کے یہ معنے ہوئے کہ پندرہ سور و پیہ فی مہینہ آمد ہوئی اور ابھی آٹھ لاکھ کی وصولی باقی ہے اور اس کے یہ معنے ہیں کہ 42 سال میں جا کر یہ رقم وصول ہوگی۔کیا کوئی معقول آدمی یہ خیال کر سکتا