خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 165

$1948 165 خطبات محمود اگر کوئی شخص عقل اور سمجھ کا دروازہ بند کر کے اعتراض کرتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ انسانی دماغ کی قیمت کو گراتا ہے اور چاہتا ہے کہ انسانی تمدن اور تہذیب پہلے سے گر جائے۔بہر حال جیسا کہ میں نے بتایا ہے اُس خاتون کے الفاظ پر پتہ لگتا ہے کہ اُس کے مد نظر صرف عتراض کرنا نہیں تھا بلکہ اعتراضات کی اصل غرض اصلاح تھی۔چاہے یہ اعتراضات کیسی ہی غلط فہمی پر مبنی تھے۔اس لیے میں اُس خاتون کے اس فعل کو اچھا سمجھتا ہوں اور اُس کے خاوند پر ہی الزام لگاتا ہوں کہ وہ کیوں خفا ہوا اور کیوں اُس نے ایسا جواب دیا جو اعتراض کو پکا کرنے والا تھا اسے چاہیے تھا کہ اعتراض کو بجائے پکا کرنے کے اُس کا مدلل جواب دیتا۔ہر شخص کو دلیل سے قائل کرنا چاہیے خواہ بیوی ہو یا خاوند۔کسی کا کوئی حق نہیں کہ وہ دماغی افکار پر حکومت کرنا چا ہے۔دماغی افکار پر سوائے خدا کے اور کوئی حکومت نہیں کر سکتا۔اور خدا بھی کہتا ہے کہ میں ایسا نہیں کیا کرتا۔پھر اور کون ایسا کرسکتا ہے "۔( الفضل 26 مئی 1948 ء ) :1 ابن ماجہ ابواب النكاح باب النظر الى المرأة اذا اراد ان يتزوجها ميں ابَوَيْهَا “ کے الفاظ ہیں۔2: مسند احمد بن حنبل جلد 2 مسند المكثرين من الصحابه ـ مسند ابى هريرة میں سُكُوتُهَا رَضَاهَا“ کے الفاظ ہیں۔3 : لزوجت: لیس۔چیپ۔لعاب۔4 بخاری کتاب الجهاد باب اسمِ الْفَرَسِ وَالْحِمارِ و با ب ناقة النّبي الا الله 5 تفسیر بیضاوی - سورة التو به آیت 92۔وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ 6 : مکھو ہر پن: نادانی۔بیوقوفی۔بے ہنری