خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 117

$1948 117 خطبات محمود گیا۔مزید بات یہ ہے کہ خود سوچنے اور غور کرنے کے علاوہ آپ اللہ تعالیٰ سے بھی سوالات کرتے گئے (جیسے بچہ اپنی ماں سے سوالات کرتا ہے ) کہ خدایا! مجھے اس کی بھی وجہ بتا اُس کی بھی وجہ بتا۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھ لو۔آپ بڑی عمر کے آدمی تھے مگر پھر بھی کہتے ہیں رَبِّ اَرِنِي كَيْفَ تُخيِ الْمَوْتی 2 دنیا کے لوگوں کی یہ حالت ہے کہ وہ احیائے موتی پر کبھی غور ہی نہیں کرتے۔نہ جسمانی زندگی انہیں عجوبہ معلوم ہوتی ہے نہ حیوانی زندگی انہیں عجوبہ معلوم ہوتی ہے۔ہزاروں سال سے زندگی کا دور چلا آ رہا ہے مگر یہ کبھی غور نہ کیا گیا کہ انسان کی زندگی کس طرح شروع ہوئی ہے۔اس زمانہ میں صرف ڈارون (Darwin) کی ایک مثال ہے۔اُس کے دل میں یہ سوال پیدا ہوا کہ زندگی کس طرح ظاہر ہوئی ہے اور وہ کیا کیا مدارج ہیں جن میں سے انسان گزرا ہے۔اس کی تحقیق غلط تھی یا صحیح بہر حال اُس کے دل میں ایک خیال پیدا ہوا اور اُس کے بعد ساری دنیا میں ایک رو چل گئی کہ دیکھیں دنیا کس طرح پیدا ہوئی ہے۔اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ رَبِّ اَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتی گویا وہی خیال جو دُنیوی اور مادی لوگوں کے دلوں میں ڈارون کے زمانہ میں پیدا ہوا آج سے ہزاروں سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں بھی پیدا ہوا۔اور اُنہوں نے کہا رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتُى اے میرے رب ! یہ بے جان مادہ کس طرح زندہ ہو جایا کرتا ہے؟ ڈارون نے تو مادی احیاء کے متعلق سوال کیا تھا لیکن ابراہیم علیہ السلام کو مادی زندگی سے کوئی غرض نہیں تھی۔اُسے روح کی زندگی مطلوب تھی۔جسمانی تغیرات سے تعلق رکھنے والے اُمور اُس نے سائنسدانوں کے لیے چھوڑ دیئے اور سمجھا کہ میرا کام صرف اتنا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے یہ پتہ لگاؤں کہ ارواح کس طرح زندہ ہوا کرتی ہیں۔جب ابراہیم علیہ السلام نے یہ سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ ابراہیم تو پچاس ساٹھ سال کا ہو چکا ہے، اب یہ بچوں کی سی باتیں چھوڑ دے۔بلکہ اُس نے بتایا کہ ارواح کس طرح زندہ ہوا کرتی ہیں۔ابراہیم سمجھتا تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک بچہ کی سی حیثیت رکھتا ہوں۔جس طرح بچہ حق رکھتا ہے کہ اپنی ماں سے سوالات کرے اُسی طرح میرا بھی حق ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے سوالات کروں اور جس چیز کی حقیقت معلوم نہ ہو اس کی حقیقت دریافت کروں۔چنانچہ اُس نے کہا اللہ میاں! مجھے یہ بتا دیجیے کہ روحیں کس طرح زندہ ہوتی ہیں؟