خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 74

$1948 74 خطبات محمود خیال نہیں رکھتے۔آخر اس میں کونسی مشکل ہے کہ کپڑوں کو صاف رکھا جائے۔مگر مقابلہ کر کے دیکھ لو کی ایک سکھ کے کپڑے صاف ہوں گے مگر مسلمان کے کپڑے صاف نہیں ہوں گے۔اس کے کپڑے جب تک پھٹ کر دھجیاں نہ ہو جائیں یہ اُن کو دھونا پسند نہیں کرتا حالانکہ زندہ رہنے والی قومیں ظاہری صفائی کا بھی ایک حد تک خیال رکھا کرتی ہیں۔مکہ میں جو لاکھوں کا شہر ہے اب تک یہ رواج پایا جاتا ہے کہ روزانہ رات کو سوتے وقت بیوی میاں اپنے دن کے کپڑے اُتار دیتے اور صبح دھو کر پہنتے ہیں۔یہ لازمی بات ہے کہ جس شخص کو یہ فکر ہو گا کہ میں نے صبح دھوئے ہوئے کپڑے پہنتے ہیں وہ علی اصبح اُٹھے گا،سستی اور غفلت میں وہ ساری رات نہیں گزار سکتا۔صبح اٹھنے اور کپڑے دھونے کی وجہ سے انہیں محنت کی عادت پڑتی ہے۔اُن کو صفائی سے محبت ہو جاتی ہے۔اُن کے ذہنوں میں ایک روشنی اور تازگی پیدا ہوتی ہے اور وہ دن بھر اپنے تمام کام نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جو شخص 6 گھنٹے سوتا اور 18 گھنٹے کام کرتا ہے وہ نمازوں میں بھی با قاعدہ ہوگا اور اُس کے اور کاموں میں بھی ایک نفاست اور عمدگی پائی جائے گی۔مگر جو شخص 10 گھنٹے سوتا اور 5 گھنٹے گپوں میں ضائع کر دتیا ہے وہ باقی گھنٹوں میں بھی کوئی مفید کام نہیں کر سکتا۔وہ نمازوں کو چٹی سمجھے گا، وہ کام کو ایک مصیبت اور بلاء خیال کرے گا اور یہی چاہے گا کہ میں کسی طرح اس سے بچ جاؤں۔مگر جو 18 گھنٹے کام میں لگا رہتا ہے اُسے چونکہ کام کرنے کی عادت ہوتی ہے اس لیے وہ نمازوں کے لیے بھی بڑی آسانی سے وقت نکال لیتا ہے۔پس اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔جب تک تم اپنے اندر تبدیلی پیدا نہیں کرو گے مت سمجھو کہ خدا تمہاری مدد کے لیے آسمان سے نازل ہوگا۔یہ خدا کی سنت کے قطعاً خلاف ہے۔خدا تعالیٰ انہی لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اُس کے بنائے ہوئے قانونوں کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتے اور ہر قسم کی سستی اور غفلت سے دور رہتے ہیں۔یورپ میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں کہ بعض ایسے لوگ جو پہلے بالکل جاہل تھے محنت اور کوشش سے کہیں سے کہیں نکل گئے کیونکہ وہ کام کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔وہ ہل چلاتے چلے جاتے ہیں اور ساتھ ہی کسی کتاب کا بھی مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔بیسیوں مثالیں ایسی ملتی ہیں کہ ہل چلاتے چلاتے وہ کتابیں پڑھتے چلے گئے اور آخر اُدھیڑ عمر یا بڑھاپے میں بہت بڑے عالم بن گئے۔مگر ہمارا پڑھا ہوا آدمی بھی بھولتا چلا جاتا ہے۔وہ بجائے کچھ اور سیکھنے کے جاہل ہوتا چلا جاتا ہے۔بجائے محنت کا عادی