خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 75

$1948 75 خطبات محمود بننے کے سستی اور ضعف کا شکار ہوتا جاتا ہے۔اور بجائے جوان ہونے کے گبڑا ہوتا جاتا ہے۔اس کی وجہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہی ہے کہ اُسے کام میں نہیں بلکہ سارا مزائسستی اور غفلت میں آتا ہے۔جب بھی کسی سے پوچھا جائے کہ مزہ کیا ہوتا ہے؟ تو ہمیشہ وہ کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اُس کی سستی کو آشکار کرنے والی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک بوڑھا تھا۔اُس سے ہم پوچھا کرتے تھے کہ بتاؤ سب سے زیادہ مزہ تم کس بات میں محسوس کرتے ہو اور تمہاری بڑی سے بڑی خواہش کیا ہے؟ اس کا وہ ہمیشہ یہ جواب دیا کرتا کہ مجھے سب سے زیادہ خواہش اس امر کی ہے کہ مجھے چھوٹا چھوٹا بخار ہو، چار پائی میں لیٹا ہوا ہوں، باہر آہستہ آہستہ بارش ہو رہی ہو ، لحاف میں نے اوڑھا ہوا ہو اور بھنے ہوئے چنے ایک ایک کر کے میں کھا رہا ہوں۔آپ فرماتے تھے ہم ہمیشہ اُس کی یہ بات سُن کر ہنسا کرتے تھے۔مگر جب بھی ہم اُس سے پوچھتے وہ یہی جواب دیا کرتا تھا۔اب واقع میں اگر غور کر کے دیکھا جائے تو اگر اس شکل میں نہیں تو ایک دوسری شکل میں ہر مسلمان کا یہی جواب ہوتا ہے۔جب بھی کسی سے پوچھو کہ مزہ کیا ہوتا ہے۔تو وہ یہی جواب دیتا ہے کہ مزہ بس یہی ہے کہ ذرا لیٹ جائیں اور کام چھوڑ دیں۔حالانکہ اصل مزہ کام میں ہے سکتے پن میں نہیں۔مگر مسلمان کو نکھے پن میں اتنا مزہ آیا اتنا مزہ آیا کہ اُس نے ہماری جنت بھی خراب کر دی۔جب بھی جنت کا نقشہ کھینچا جائے مسلمان اس رنگ میں جنت کا نقشہ کھینچتے ہیں کہ وہاں بڑا مزہ ہو گا، آرام سے بیٹھے رہیں گے اور پکی پکائی روٹی مل جائے گی۔نہ نماز ہو گی۔نہ روزہ اور نہ کوئی اور کام۔بس کھائیں گے اور عیش کریں گے۔حالانکہ یہ جنت نہیں۔یہ تو بڑا خطرناک دوزخ ہے۔کیا جیل خانہ کا قیدی اپنے آپ کو جنت میں سمجھتا ہے؟ اس لیے کہ وہ سارا دن کو ٹھڑی میں بیٹھا رہتا ہے اور اُسے کوئی کام نہیں ہوتا۔وہ اپنے آپ کو جنت میں نہیں بلکہ دوزخ میں سمجھتا ہے۔حالانکہ وہ ہر قسم کے کام سے فارغ ہوتا ہے۔جنت یہی ہے کہ کام کیا جائے۔اور ہمیں جو کچھ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے وہ بھی یہی ہے کہ مومن وہاں خوب کام کرے گا اور یہی جنت ہوگی۔پس اگر تم آنے والی آفات اور بلاؤں سے بچنا چاہتے ہو تو اپنے اندر نیک تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کرو۔اور اگر تم میں سے کوئی شخص ان بلاؤں سے بچنا نہیں چاہتا بلکہ مرنا چاہتا ہے تو بے شک مرے مگرایسے شخص کو چاہیے کہ وہ احمدیت کو بدنام نہ کرے۔اب حالات اس قسم کے ہیں کہ جب تک